Al-Risala · March 2017 · page 26

سیکولرزم کیا ہے

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۷، صفحہ ۲۶

سیکولرزم کیا ہے

سیکولرزم کے بارے میں منصفانہ رائے قائم کرنے کے لیے دو چیزوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ایک ہے سیکولر فلاسفی، اور دوسری چیز ہے سیکولر پالیسی۔ دونوں کے درمیان واضح فرق ہے۔ جو لوگ اس فرق کو نہ سمجھیں، وہ سیکولرزم کے بارے میں صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے۔ سیکولر فلسفی ابتدا ء اُن لوگوں کے ذہن کی پیدا وار تھی جو ملحدانہ سوچ کا شکار تھے۔ مگر بعد کو فلسفے سے الگ ہو کر سیکولرزم، جمہوری نظام کی عملی پالیسی بن گیا۔ عملی پالیسی کی حیثیت سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ—مذہبی اُمور کو لوگوں کی انفرادی آزادی کا معاملہ قرار دے دینا، اور مشترک مادی مفادات کو اسٹیٹ کے دائرے کی چیز سمجھنا۔

قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ موجودہ زمانے میں مذہبی آزادی کو لوگوں کا ایک ناقابلِ تنسیخ حق قرار دے دیا گیا ہے۔ سیکولر پالیسی دراصل لوگوں کی اسی مذہبی آزادی کا ایک حصہ ہے۔ پہلے زمانے میں یہ طریقہ تھا کہ ایک مذہبی گروہ دوسرے مذہبی گروہ کو آزادی دینے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ وہ ان کو مذہبی تعذیب (religious persecution) کا شکار بناتا تھا۔ جدید جمہوریت میں اس کے برعکس، سیکولر پالیسی کو اختیار کیا گیا، یعنی مشترک مادی اُمور کو ریاست کے دائرے میں رکھنا اور مذہب اور کلچر کے معاملے میں لوگوں کو کامل آزادی عطا کرنا۔

ہر معاشرے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ وہاں امن کا ماحول ہو۔ امن کے بغیر کسی بھی قسم کی کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ سیکولرزم ایک عملی پالیسی کی حیثیت سے قیام امن کی یہی تدبیر ہے۔ اسی تدبیر نے موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ملکوں کو قدیم طرز کی مذہبی لڑائیوں سے بچایا ہے۔ چنانچہ انڈیا سے لے کر امریکا اور برطانیہ تک سیکولر اسٹیٹ کے اصول کو اختیار کیا گیا۔ اس کا مطلب مذہبی مخالفت نہیں، بلکہ مذہبی عدم مداخلت ہے۔ چناں چہ ان ملکوں میں ہر مذہبی گروہ کو مکمل آزادی حاصل ہے ۔ ان ملکوں میں جو چیز ممنوع ہے، وہ صرف تشدد ہے، نہ کہ اپنے مذہب پر عمل۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2017 All issues

Printed page