Al-Risala · April 2017 · page 14

اصلاح اور محاسبہ

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۱۴

اصلاح اور محاسبہ

ابو الدرداء ایک انصاری صحابی ہیں ۔ مدینہ میں پیدا ہوئے ، اور 72 سال کی عمر میں اسکندریہ کے اندر 32ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کا ایک قول اس طرح نقل کیا گیا ہے : لا يفقه الرجل كل الفقه حتى يمقت الناس في جنب الله ثم يرجع إلى نفسه فيكون لها أشد مقتا (کنز العمال، حدیث نمبر 29528)۔ یعنی کوئی آدمی اپنی سمجھ میں کامل نہیں ہوسکتا ، حتیٰ کہ اس کا یہ حال ہو جائے کہ وہ اللہ کے لیے دوسروں پر سخت ہو ، پھر جب اپنی طرف تو جہ کرے تو وہ اپنے لیے اس سے بھی زیادہ سخت ہو۔ دوسروں کا محاسبہ کرنا صرف اس کے لیے جائز ہے، جو خود اپنا محاسبہ اس سے بھی زیادہ سخت انداز میں کرتا ہو۔ جو شخص مومن ہوتا ہے، وہ مصلح بھی ہوتا ہے۔ یعنی اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کا طالب ہونا۔ جب وہ دوسروں کے اندر کوئی کمی کی بات دیکھتا ہے، تو اپنے احساس کے تقاضے کے تحت وہ مجبور ہوتا ہے کہ وہ نہایت واضح انداز میں اس کی نگیر کرے۔ اس طرح کی نگیر بلاشبہ ایک ثواب کا کام ہے۔ لیکن جو آدمی سچے جذبے کے ساتھ دوسروں کے بارے میں حساس ہو، وہ یقیناً اپنے بارے میں شدید حساس ہوتا ہے۔ اس کی یہ حساسیت ایک طرف دوسروں کے بارے میں اس کو ناقد بناتی ہے۔ دوسری طرف یہی حساسیت اس کے اندر یہ سوچ پیدا کرتی ہے کہ اگر میں نے تنقید کرنے میں کوئی غلطی کی ہے تو اللہ یقیناً میری سخت پکڑ کرے گا۔ مومن کی حساسیت اس کے اندر دو طرفہ صفت پیدا کرتی ہے۔ ایک طرف دوسروں کو نصیحت کرنا اور دوسری طرف شدید انداز میں اپنا محاسبہ (introspection) کرنا۔ اس طرح مومن کی یہ دو طرفہ حساسیت اس کی شخصیت کی تعمیر میں معاون ہوتی ہے۔ ایک طرف یہ حساسیت اس کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ درست انداز میں اصلاح کا کام کرے، اور دوسری طرف یہ حساسیت اس کو اس سے بچاتی ہے کہ وہ اس عمل میں کسی زیادتی سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ دوسرے کی غلطی کو بتانے والا بھی بن جاتا ہے ، اور اپنی غلطی کی اصلاح کرنے والا بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page