Al-Risala · April 2017 · page 16

فروغ وسائل انسانی

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۱۶

فروغ وسائل انسانی

امریکی عالم اقتصادیات جان آرکا منس (John R. Commons) نے 1893 میں ایک کتاب شائع کی، دی ڈسٹری بیوشن آف ویلتھ (The Distribution of Wealth) ۔ اس کتاب میں اس نے پہلی بار ہيومن ریسورس (human resource) کی اصطلاح استعمال کی۔ ابتدائی طور پر اس اصطلاح کو انڈسٹریل کلچر کی ایک ضرورت کے طور پر لیا گیا تھا۔ لیکن بعد کو وسیع طور پر یہ اصطلاح انسانی وسائل کے ڈیویلپمنٹ (human resource development) کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگی۔

یہ اصطلاحی توسیع آغاز ہی سے اپنے اندر غلط فہمی کا ایک پہلو رکھتی تھی۔ وہ یہ کہ جس طرح مادی دنیا میں مادہ کو خارجی ڈیویلپمنٹ کے ذریعہ ترقی کے مرحلے تک پہنچایا جا سکتا ہے، اسی طرح انسان کو بھی خارجی تربیت کے ذریعہ اعلیٰ تربیت تک پہنچانا ممکن ہے۔ مثلاً اور (ore) کو ڈیولپ کر کے جس طرح اسٹیل (steel) کے درجے تک پہنچانا ممکن ہوتا ہے، اسی طرح غیر اعلیٰ انسان کو بھی خارجی تربیت کے ذریعہ اعلیٰ انسان کے درجے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ مگر اس تصور میں ایک چیز حذف ہوگئی۔ وہ یہ کہ انسان اگر چہ جسمانی اعتبار سے بظاہر ایک مادی وجود ہے، لیکن اپنے دماغ کے اعتبار سے وہ مکمل طور پر ایک غیر مادی ظاہرہ (non-material phenomenon) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس فرق کا مطلب یہ ہے کہ انسان بنایا نہیں جاتا، بلکہ وہ اپنے آپ کو خود اپنی سوچ کے تحت تیار کرتا ہے۔ انسان ایک سیلف میڈ (self-made) مخلوق ہے۔

ایک حدیث رسول

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: کل مولود یولد علی الفطرۃ، فأبواہ یہودانہ، أو ینصرانہ، أو یمجسانہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page