Al-Risala · April 2017 · page 39

عورت کی تخلیق

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۷، صفحہ ۳۹

عورت کی تخلیق

عورت کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: إنما مثل المرأة كالضلع، إن أردت إقامتها كَسَرْت، وإن تستمتع بها تستمتع بها وفيها عوج، فاستمتع بها على ما كان منها من عوج (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 4180)۔ یعنی بے شک عورت کی مثال پسلی جیسی ہے۔ اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو تو وہ ٹوٹ جائے گی، اور اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو فائدہ اٹھاؤ گے، اور اس کے اندر ایک ٹیڑھ ہے۔ پس تم اس سے فائدہ اٹھاؤ، اس کے باوجود کے اس کے اندر ٹیڑھ ہے۔

اس روایت میں استمتع کا لفظ آیا ہے۔ استمتاع کا لفظی مطلب ہے فائدہ اٹھانا۔ یہاں استمتاع سے مراد یہی ہے جس کو دوسرے الفاظ میں بذریعہ ایڈ جسٹمنٹ فائدہ اٹھانا کہا جاتا ہے۔ یعنی اگر تم عورت کے ساتھ ری ایکشن (reaction) کا طریقہ اختیار نہ کرو، بلکہ اس کے ساتھ ایڈ جسٹ کرتے ہوئے زندگی گزار و تو تم کامیاب رہو گے۔

اس حدیث میں ضلع (ٹیڑھ) کا لفظ تمثیل کے معنی میں آیا ہے۔ اس سے مراد ہے عورت کا فطری طور پر جذباتی (emotional) ہونا۔ حدیث میں شادی شدہ زندگی کا ایک کامیاب اصول بتایا گیا ہے۔ خالق نے عورت کو مرد کے ساتھی (partner) کے طور پر پیدا کیا ہے۔ لیکن مصلحت کا تقاضا تھا کہ عورت کے اندر sentimental مزاج رکھا جائے، اس مزاج کی بنا پر عورت کے اندر برداشت کا مادہ کم ہوتا ہے۔ وہ خلاف مزاج بات پر جلد جذباتی ہو جاتی ہے۔ مرد کو چاہیے کہ جب وہ دیکھے کہ عورت کسی معاملے میں جذباتی ہوگئی ہے۔ تو مرد اس کو عورت کی فطرت کے خانے میں ڈال دے، مردانہ بہانہ کرے کہ وہ اس کے جواب میں خود بھی جذباتی انداز اختیار کرے۔ اسی کو ایڈ جسٹمنٹ کہا جاتا ہے۔ اور اس معاملے کا عملی حل صرف ایک ہے، اور وہ ایڈ جسٹمنٹ ہے۔ مرد کو چاہیے کہ وہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے اس معاملے میں یک طرفہ طور پر ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2017 All issues

Printed page