Al-Risala · May 2017 · page 6

ایمان بالغیب

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۶

انسان کا المیہ

انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ جنت کا طالب بنے۔ وہ آخری حد تک جنت کا خواہش مند بن جائے۔ لیکن عملاً ایسا نہیں ہوتا۔ چناں چہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ما رأيت مثل الجنة، نام طالبها (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 1638)۔ یعنی میں نے جنت کی مانند ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ اس کا طلب گار سوتا رہے۔

انسان کا ہیبیٹیٹ (habitat) جنت ہے۔ انسان کو حقیقی خوشی صرف جنت میں مل سکتی ہے۔ مگر جنت موجودہ آنکھوں سے انسان کو دکھائی نہیں دیتی۔ اس لیے انسان جنت کا طالب بننے کے بجائے دنیا کا طالب بن جاتا ہے۔ بچپن کا دور انسان کے لیے بے خبری کا دور ہے۔ جوانی کی عمر میں وہ غیب کی جنت کے بجائے، شہود کی جنت کو اپنا مقصود بنا لیتا ہے۔ بڑھاپے کی عمر میں یہ ہونا چاہیے کہ انسان اپنی عمر بھر کی غلطیوں کی تلافی کرے، اور حقیقی معنوں میں جنت کا طالب بن جائے۔ مگر یہاں بھی وہ اس سے محروم رہتا ہے۔

بڑھاپے کی عمر ایک ایسی عمر ہے، جب کہ انسان کے اندر سے امنگ کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر پہلے کی طرح جوش وجذبہ باقی نہیں رہتا۔ وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو انسان ہو لیکن وہ جوش وخروش کی صفت سے خالی ہو۔ انسان کی یہ حالت دوبارہ بڑھاپے کی عمر میں بھی اس کو جنت کا طالب بننے سے محروم کر دیتی ہے۔ اس کی ساری توجہ اس میں لگ جاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالے۔ اپنی بقیہ عمر کو کسی نہ کسی طرح گزار دے۔

یہی تقریباً ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ جنت کا طالب بنے۔ وہ جنت کو اپنا منزل مقصود بنائے، لیکن مختلف اسباب سے وہ اپنی پوری عمر غفلت میں گزار دیتا ہے۔ وہ اپنی عمر کے پہلے حصے میں بھی جنت سے غافل رہتا ہے، اور اپنی عمر کے آخری حصہ میں بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page