دور زوال
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۴
دور زوال
امت پر جب زوال کا دور آئے گا تو قانون دفع (البقرۃ : 251) کا تقاضا ہوگا کہ اللہ اپنے ایک خاص بندے کو بھیجے جو کامل عقل سے بہرہ ور ہوگا، وہ اللہ کی خصوصی نصرت سے سچائی کو کھولے گا، وہ صحیح کو صحیح بتائے گا اور غلط کا غلط ہونا واضح کرے گا۔ اللہ کا یہ منصوبہ ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: يملأ الأرض قسطاً وعدلاً كما ملئت ظلماً وجوراً (سنن ابو داود، حدیث نمبر 4282)۔ یعنی وہ زمین کو قسط وعدل سے بھر دے گا۔ جیسا کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی۔ اس حدیث میں عدل سے مراد عدل کا عملی نظام نہیں ہے۔ اسی طرح ظلم سے مراد ظلم کا عملی نظام نہیں ہے۔ بلکہ عدل سے مراد عدل کی بات ہے اور ظلم سے مراد ظلم کی بات۔ اسی طرح ارض سے مراد ساری زمین (globe) نہیں، بلکہ ارض سے مراد ارض مسلم ہے۔ یعنی مسلم دنیا میں جب ہر طرف بے عقلی کی باتیں ہونے لگیں گی تو وہ لوگوں کو ہر پہلو سے عقل کی بات بتائے گا۔ وہ نظریاتی اعتبار سے، نہ کہ عملی اعتبار سے مسلم دنیا کو بتائے گا کہ عقل کے مطابق سوچنا کیا ہے اور عقل کے مطابق کرنا کیا ہے۔ یہ انسان کوئی حکومت نہیں قائم کرے گا بلکہ وہ ایک نظریاتی دور لائے گا۔ ان پیشین گوئیوں کو سمجھنے میں ایک رکاوٹ یہ پیش آئی ہے کہ ان نصوص کو سیاسی حکومت کے معنی میں لے لیا گیا ہے۔ سیاسی حکومت تو قائم نہیں ہوئی، اس لیے ایسی آیات اور احادیث لوگوں کے لیے ناقابل فہم بنی ہوئی ہیں۔ ایسی آیتوں اور حدیثوں کو غیر سیاسی معنی میں لیا جائے تو فوراً اس کا مطلب قابل فہم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس قسم کی آیتوں اور حدیثوں کو نظریاتی معنی میں لینے کا مطلب مکمل معنوں میں نظریاتی انقلاب نہیں ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی چیز کامل معنوں میں پیش نہیں آتی، ہر بات محدود معنی میں پیش آتی ہے۔ یہ ذہن بھی لوگوں کے لیے ایسے نصوص کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ ان نصوص میں مستقبل کے بارے میں نہایت اہم بات کہی گئی ہے۔ لیکن ان نصوص کو سمجھنا اسی وقت ممکن ہے جب کہ ان کو غیر سیاسی معنی میں لیا جائے ۔ مزید یہ کہ ان کو محدود معنی میں لیا جائے، نہ کہ کامل معنی میں۔