Al-Risala · May 2017 · page 36

جزئیات، کلیات

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

جزئیات، کلیات

مسلمانوں کے اندر ایک ظاہر وہ ہے جس کو مسلکی اختلاف کہا جاتا ہے۔ مسلکی اختلافات کی بنا پر فرقے بن گئے ہیں، اور ان فرقوں کے درمیان تشدد عام ہو گیا ہے، کبھی فکری تشدد اور کبھی عملی تشدد۔ مسلکی اختلافات کی حقیقت کیا ہے۔ یہ سب کے سب جزئی اختلافات ہیں۔ یہ دراصل غلو (extremism) ہے جس نے ان اختلافات کو مسئلہ بنا دیا، ورنہ یہ کوئی مسئلہ تھا ہی نہیں۔ بعد کو ماس کنورژن (mass conversion) کے زمانے میں جب یہ جزئی اختلافات ظاہر ہوئے، اس وقت بعض علماء نے کہا کہ یہ جزئی اختلافات ہیں۔ یہ اختلافات حقیقت میں تنوع کی مثال ہیں، نہ کہ فرق کی مثال۔ اور تنوع کے معاملے میں ہمیشہ تعدد (diversity) ہوتی ہے۔ یعنی یہ مسلک بھی درست اور وہ مسلک بھی درست۔

کچھ دوسرے علماء نے اس کو نہیں مانا، انھوں نے ان اختلافات کو تو حد کے معیار سے جانچنا شروع کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ الحق لا یتعدد۔ انھوں نے جزئیات کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنا دیا۔ یہیں سے یہ ہوا کہ جو اختلاف تنوع تھا، وہ اختلاف تفرق کے ہم معنی بن گیا، اور بڑھتے بڑھتے ایسا ہو گیا گویا کہ مختلف مسالک نہیں ہیں، بلکہ مختلف مذاہب ہیں۔

حقیقت یہ ہے زندگی میں ہمیشہ اختلاف بمعنی فرق ہوتا ہے۔ اس قسم کا اختلاف بذاتِ خود کوئی برائی نہیں ہے۔ اختلاف کو پر امن گفت و شنید کا موضوع بنایا جائے تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔ لیکن جب اختلاف کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنا دیا جائے تو اس وقت اختلاف عملاً برائی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے فرقہ بندی آتی ہے، اس کے بعد تکفیر آتی ہے، اور پھر لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دوسری چیزوں کی طرح مذہب میں بھی کلیات اور جزئیات ہوتے ہیں۔ کلیات تو حد کا موضوع ہیں، اور جزئیات تعدد کا موضوع۔ یعنی کلیات میں صرف ایک ہی مسلک درست ہوتا ہے، جب کہ جزئیات میں ایک سے زیادہ مسلک درست ہو سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page