Al-Risala · May 2017 · page 43

خوف اور حکمت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۳

ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو حدیث میں حکمت (wisdom) کہا گیا ہے۔

یہی وہ صفت ہے جس کا ثبوت اصحاب رسول نے صلح حدیبیہ کے وقت دیا تھا۔ اس واقعہ کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: اِذْ جَعَلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَاَنْزَلَ اللَّهُ سَكِيْنَتَهُ عَلَى رَسُوْلِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوْا اَحَقَّ بِهَا وَاَهْلَهَا وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمًا (48:26)۔ یعنی جب انکار کرنے والوں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی، جاہلیت کی حمیت، پھر اللہ نے اپنی طرف سے سکینت نازل فرمائی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر، اور اللہ نے ان کو تقویٰ کی بات پر جمائے رکھا اور وہ اس کے زیادہ حق دار اور اس کے اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

While those who deny the truth made it a prestige issue [in their hearts], the bigotry of the days of ignorance, God sent His tranquility down to on His Messenger and believers and firmly established in them the principle of righteousness, for they were indeed better entitled to it and more worthy of it. God has full knowledge of all things. صلح حدیبیہ کا معاملہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں پیش آیا، وہ ایک بے حد نازک معاملہ تھا۔ فریق ثانی نے اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اس کو اپنے لیے عزت کا سوال بنا لیا۔ اس بنا پر وہ اس معاملے میں بے حد جذباتی ہو گئے۔ اس کے برعکس ، اصحاب رسول کے اندر متقیانہ مزاج تھا۔ انھوں نے اپنے تحمل کو باقی رکھا۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہو گئے کہ وہ اس معاملے کو خالص عقل (wisdom) کے تحت سوچیں۔ یہ ایک تاریخی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خوف خدا سے کس طرح آدمی کے اندر وزڈم کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔

*******

خدا کے دین میں ذمہ داری بقدراستطاعت کا اصول ہے ۔ استطاعت سے زیادہ کا مکلف بنانا اللہ کا طریقہ نہیں۔ یہ اصول فرد (individual) کے لئے بھی ہے، اور سوسائٹی کے لئے بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page