گاندھی کا آدرش
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۵
گاندھی کا آدرش
(مہاتما گاندھی کے ڈیڑھ سو سالہ تقریب کی مناسبت سے سیوا گرام آشرم، واردھا کے لیے صدر اسلامی مرکز نے یہ پیغام دیا ہے) مہاتما گاندھی کو انڈیا کے لوگ اپنا آدرش مانتے ہیں۔ یہ آدرش کس معنی میں ہے۔ دو لفظ میں وہ یہ ہے— سادہ زندگی، اونچی سوچ (simple living, high thinking)۔
مہاتما گاندھی کی سادہ زندگی کو سارے لوگ جانتے ہیں۔ مثلاً وہ دھوتی پہنتے تھے۔ لیکن ان کی دھوتی بہت زیادہ سادہ ہوتی تھی۔ دھوتی کی اسٹینڈرڈ لمبائی 4.5 میٹر ہوتی ہے۔ لیکن مہاتما گاندھی اس کے آدھے سائز کی دھوتی پہنتے تھے۔ اسی طرح مہاتما گاندھی کا طریقہ ہر معاملے میں سادہ ہوتا تھا۔ مہاتما گاندھی نے انڈیا کے لوگوں کے لیے جو لائف اسٹائل چھوڑا ہے، وہ آخری حد تک سادہ تھا۔
مہاتما گاندھی کی زندگی کا دوسرا اصول یہ تھا کہ ری ایکشن کو اوائڈ کرتے ہوئے امن کا طریقہ اختیار کرنا۔ مہاتما گاندھی ساؤتھ افریقہ میں قانون کی پریکٹس کرتے تھے۔ 1893 میں ان کو ساؤتھ افریقہ کے Pietermaritburg ریلوے اسٹیشن پر ٹھنڈی رات میں جبر اٹرین سے باہر نکال دیا گیا، جب کہ ان کے پاس فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ یہ اس وقت ہوا جب کہ ساؤتھ افریقہ میں برٹش رول قائم تھا۔ 1915 میں مہاتما گاندھی ساؤتھ افریقہ چھوڑ کر انڈیا آئے۔ اس کے بعد یہاں برٹش رول کے خلاف آزادی کی تحریک شروع کی۔ لیکن انھوں نے اپنی تحریک تمام تر اہنسا (non-violence) کی بنیاد پر چلائی۔ گویا کہ ساؤتھ افریقہ میں برٹش رول کے زمانے میں ان کے اوپر تشدد (violence) کیا گیا۔ لیکن انڈیا میں انھوں نے برٹش رول کے خلاف جو تحریک چلائی وہ مکمل طور پر اہنسا (non-violence) پر مبنی تھی۔ مہاتما گاندھی کا آدرش واد انھیں دواصولوں پر مبنی تھا— سادگی اور اخلاقی بلندی۔ یہی مہاتما گاندھی کا پیغام ہے۔ ان کی روح پکار رہی ہے کہ اگر انڈیا میں ترقی کا دور لانا ہے تو ہم کو مہاتما گاندھی کے دواصولوں کو اپنانا ہے۔ ایک یہ کہ ہم ذاتی زندگی میں مکمل طور پر سادگی کا طریقہ اختیار کریں، اور دوسرے یہ کہ ہم اپنی قومی جدوجہد میں جو بھی تحریک چلائیں وہ مکمل طور پر امن (peace) پر مبنی ہو۔ کسی حال میں ہم تشدد کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ نئی دہلی، 28 جنوری 2017 وحید الدین