Al-Risala · June 2017 · page 6

ہزار مہینے کے برابر

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۶

ہزار مہینے کے برابر

قرآن کی سورہ نمبر 97 میں لیلۃ القدر کا ذکر ہے جو ہر سال رمضان کے مہینے میں آتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مبارک رات میں اللہ رب العالمین کے فرشتے بڑی تعداد میں اللہ کے خصوصی منصوبہ کے تحت زمین پر اترتے ہیں۔ یہاں تک کہ فرشتوں کی کثرت کی بنا پر لیلۃ القدر کی رات امن کی رات (night of peace) بن جاتی ہے۔

اس سورہ میں رات کا لفظ انسان کی نسبت سے آیا ہے۔ یعنی وہ انسان جس کو اس رات کا فیض حاصل ہو جائے، جو لوگ اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر اس رات کو پہچانیں، اور اس سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں، ان کے اندر مبنی بر سلام شخصیت بنے گی۔ ایسے لوگ مکمل معنوں میں امن پسند انسان (peaceful person) بن جائیں گے۔ ان کے اندر کامل معنوں میں پرامن سوچ (peaceful thinking) پیدا ہو جائے گی۔ اس رات کو ملنے والی یہ پرامن غذا (peaceful food) جس کو حقیقی معنوں میں حاصل ہو جائے، اس کے لیے وہ ہزار ماہ کی مدت تک کافی ہو جائے گی۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنی ساری عمر کے لیے ایک پرامن انسان (peaceful person) بن جائے گا۔ پرامن انسان بننا کوئی سادہ بات نہیں۔ پرامن انسان بننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان جس کا دل منفی سوچ (negative thoughts) سے خالی ہو، وہ انسان جس کے اندر کامل معنوں میں تواضع (modesty) ہو، وہ انسان جو ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction) سے بچا ہوا ہو، وہ انسان جو اپنی روحانی بلندی کی بنا پر اعلی حقائق میں جینے والا بن گیا ہو۔

امن پسند انسان سے مراد وہ انسان ہے جس کے لیے قرآن میں نفس مطمئن (89:27) اور قلب سلیم (26:89) جیسے الفاظ آئے ہیں۔ پرامن انسان وہ ہے جس کا دل غیر اللہ کی فکر سے خالی ہو جائے، جس کے دماغ میں اللہ کی نسبت سے کوئی کنفیوزن (confusion) باقی نہ رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page