قرآن کی تفسیر
الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۸
قرآن کی تفسیر
قرآن کی تفسیر میں کثرت سے کتابیں لکھی گئی ہیں۔ عام طریقہ یہ ہے کہ ان مفسرین کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے طبقے میں صحابہ کی تفسیریں ہیں۔ مثلاً عبد اللہ ابن عباس اور عبد اللہ ابن مسعود، وغیرہ۔ دوسرے طبقے میں تابعین کی تفسیریں ہیں۔ مثلاً عکرمہ اور مجاہد، وغیرہ۔ تیسرے طبقے میں وہ لوگ جنھوں نے صحابہ و تابعین کے اقوال کو جمع کیا، مثلاً عبد الرزاق، اور سفیان بن عیینہ وغیرہ۔ چوتھے طبقے میں وہ لوگ ہیں جنھوں نے صحابہ و تابعین کے اقوال پر اپنی توجیہہ اور ترجیح اور استنباط کو شامل کیا۔ مثلاً ابن جریر طبری، وغیرہ۔ پانچویں طبقے میں ان لوگوں کو شمار کیا گیا ہے، جو قرآن کی تفسیر میں لغوی فوائد اور وجوہ اعراب کا ذکر کرتے ہیں۔ مثلاً ابو اسحاق الزجاج اور ابو جعفر النحاس، وغیرہ۔ چھٹے طبقے میں وہ مفسرین آتے ہیں جو کسی خاص علم میں شغف رکھتے تھے، اور اسی کے مطابق انھوں نے اپنی تفسیریں لکھی ہیں۔ مثلاً ابو حیان الاندلسی کی تفسیر البحر المحیط، جو نحوی قواعد کے اعتبار سے لکھی گئی ہے، اور ابو بکر الجصاص کی احکام القرآن جس میں فقہی اعتبار سے آیات کی تفسیر کی گئی ہے۔ ساتویں طبقہ میں دورِ جدید کے مفسرین کو شمار کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً محمد عبدہ، رشید رضا، اور سید قطب، وغیرہ۔ مفسرین کے طبقات کی یہ تقسیم عملاً درست ہے، لیکن وہ بعد کے زمانے میں قائم کی گئی ہے۔ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے، اس میں صراحت کے ساتھ صرف ایک ہی طبقہ کا ذکر کیا گیا ہے، اور وہ قرآن میں تدبّر اور تفکر کرنے والے لوگ ہیں۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الأَلْبَابِ (38:29)۔ تا ہم ظاہر ہے کہ یہ تدبر آزادانہ تدبر نہیں ہوگا، بلکہ وہ اس معاملے میں تمام معتبر مآخذ اور معتبر شخصیتوں کو شامل کر کے کیا جائے گا۔ مطالعہ قرآن کا مقصد صرف فنی تقاضے کو پورا کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ قاری کے اپنے ذہن کا جزء بن جائے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان کی گئی ہے: بَلْ هُوَ آيَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ (29:49)۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues