Al-Risala · January 2017 · page 28

قتال، جہاد

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸

مسلمانوں کی بعد کی تاریخ میں اس معاملے میں ایک فکری تبدیلی پیدا ہوگئی۔ وہ یہ کہ عمومی طور پر قتال و جہاد کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یہ بلاشبہ ایک فکری انحراف تھا۔ اس فکری انحراف کی بنا پر یہ نقصان واقع ہوا کہ قتال ایک مستقل عمل کے طور پر مسلمانوں کے درمیان جاری ہو گیا۔ اور دعوت الی اللہ جو اصل مقصود تھا، وہ عملاً پس پشت پڑ گیا۔ مسلمانوں کے درمیان انحراف کا یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔

اسلام اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا مذہب ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ بظاہر اگر کچھ لوگ تم کو اپنے دشمن نظر آئیں تو اپنے حسن اخلاق سے ان کو اپنا دوست بناؤ (فصلت : 34)۔ مگر بعد کے زمانے میں جب قتال کو جہاد کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا تو صورت حال بدل گئی۔ اب مسلمانوں میں ہم اور وہ (we and they) کا تفریقی کلچر فروغ پانے لگا۔ اب مسلمانوں میں ایک نئی تفریق وجود میں آئی۔ اس تفریق کے تحت، کچھ لوگ اپنے تھے اور کچھ غیر تھے، کچھ مومن تھے اور کچھ کافر، کچھ دوست تھے اور کچھ دشمن۔ اس تفریق کی بنا پر مسلمانوں میں عدم برداشت (intolerance) کا کلچر پیدا ہوا۔ یہ کلچر بڑھتے بڑھتے جنگ اور خودکش بمباری (suicide bombing) تک پہنچ گیا۔

مسلمانوں کے درمیان یہ صورت حال، بلاشبہ ایک مہلک صورت حال ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ مسلمان اجتماعی توبہ (النور: 31) کریں۔ وہ پر تشدد قتال کے کلچر کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور پرامن دعوت کے کلچر کو پوری طرح اختیار کر لیں۔ اس اجتماعی توبہ میں مسلمانوں کے لیے دنیا کی فلاح بھی ہے اور آخرت کی فلاح بھی۔

پازیٹیو تھنکرس فورم (بنگلور) کا ایڈریس تبدیل ہو چکا ہے جو اس طرح ہے:

Abdullah Burmi UA-116, Positive Thinker's Forum, Old Panchayat Road, NO.20, Yeshwanthpur Bangalore- 22

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page