Al-Risala · June 2017 · page 39

بقدراستطاعت کا اصول

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۳۹

بقدراستطاعت کا اصول

اسلام میں جو احکام ہیں، وہ سب کے سب بقدراستطاعت پر مبنی ہیں۔ یعنی ایک شخص کی ذمہ داری صرف اسی کی ہے جو اس کے بس میں ہو۔ جو چیز اس کے بس میں نہ ہو، اس کی ذمہ داری بھی اس پر نہیں۔

اجتماعی معاملات میں اس اصول کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی صورت حال ایسی نظر آتی ہے، جو اس کے نزدیک قابلِ اصلاح ہے تو ایسے آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عملی اقدام سے اپنے کام کا آغاز کرے ۔ بلکہ یہ کرنا ہوگا کہ وہ حالات کو غیر جانب دارانہ انداز میں سمجھے، اور پھر اپنی طاقت کا غیر جذباتی طور پر اندازہ کرے ۔ اس بے لاگ اندازہ کے بعد وہ یہ سوچے کہ اس موقع پر اگر میں عملی اقدام کروں تو اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اگر اس کی یہ رائے ہو کہ وہ اپنے اقدام سے مثبت نتیجہ پیدا کر سکتا ہے تو اس کے لیے عملی اقدام کرنا جائز ہوگا، اور اگر مثبت نتیجہ مشتبہ ہو تو ایسی حالت میں اس کو ہر گز عملی اقدام نہیں کرنا چاہیے ۔

اس سلسلے میں دوسری بات یہ ہے کہ عملی اقدام کے بعد درمیان میں اگر اس کو محسوس ہو کہ اس کا اقدام مثبت عملی نتیجہ پیدا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے تو فوراً اس کو اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے پیچھے لوٹنا چاہیے ۔ اس کے بعد اس کے لیے دو آپشن ہے ۔ یا تو وہ اپنے آپ کو اقدام کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے، بالکل خاموش ہو جائے یا اگر اس کو غیر جذباتی اندازہ کے بعد یہ محسوس ہو کہ اس کی منصوبہ بندی (planning) غلط تھی، اور اس کے لیے ممکن ہے کہ وہ بہتر منصوبہ بندی کے ذریعہ دوبارہ کوئی مفید نتیجہ پیدا کر سکتا ہے، تب اس کے لیے جائز ہوگا کہ وہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی کوشش کا دوبارہ آغاز کرے ۔ نماز کی ادائیگی کا معاملہ ہو تو ہر آدمی آزاد ہے کہ وہ وقت آنے پر نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو جائے ، لیکن اجتماعی زندگی کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ اجتماعی زندگی کا اصول یہ ہے کہ بے نتیجہ عمل سے بہتر ہے کہ آدمی کوئی عمل ہی نہ کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page