Al-Risala · June 2017 · page 42

ہر چیز ہر ایک کے لیے

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۴۲

ہر چیز ہر ایک کے لیے

9 اپریل 2017 کو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ، دی ٹائمس آف انڈیا (اسپیکنگ ٹری ایڈیشن) میں راقم الحروف کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے، جمہوریت سب کے لیے: Democracy is for all یہ بات صرف جمہوریت کے لیے نہیں ہے، بلکہ پورے دور (age) کے لیے ہے۔ موجودہ دور ایک نیا دور ہے۔ اس دور میں قدیم طرز کی اجارہ داری کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اب دنیا میں کوئی مراعات یافتہ طبقہ (privileged class) نہیں۔ اب ہر موقع ہر ایک کے لیے کھل گیا ہے۔ اب ہر آدمی اپنے حوصلے کے مطابق جس میدان میں چاہے اپنی قسمت آزمائی کر سکتا ہے۔ اب کسی شعبہ پر کسی طبقے کی اجارہ داری (monopoly) نہیں۔ تاہم ایک شرط ہے۔ وہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنی کوشش امن (peace) کے دائرے میں کرنا چاہیے۔ تشدد کا دائرہ کسی کے لیے بھی کھلا ہوا نہیں ہے۔ جب تک آپ پرامن رہیں، کوئی روکنے والا نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ تشدد کا طریقہ اختیار کریں تو دنیا میں کوئی آپ کی حمایت کرنے والا نہیں ہوگا۔

اس نئے ظاہر ہ نے تعلیم کی اہمیت بہت زیادہ بڑھادی ہے۔ ہر قسم کے تعلیمی ادارے ساری دنیا میں بڑے پیمانے پر کھل گئے ہیں۔ یہ ادارے آپ کی تعلیم کا انتظام کرتے ہیں، اور پھر آپ کی تعلیمی لیاقت کا امتحان لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کی لیاقت (competence) کے مطابق آپ کو ڈگری دیتے ہیں۔ یہی تعلیمی ڈگریاں موجودہ زمانے میں آدمی کی پروفیشنل پہچان بن گئی ہیں۔ اب ہر انسان کو اس کی تعلیمی ڈگری کی حیثیت سے جانچا جاتا ہے، اور اسی کے مطابق اس کو مواقع دیے جاتے ہیں۔ تعلیم کا یہ دروازہ ہر مرد اور ہر عورت کے لیے کھلا ہوا ہے۔ اب ہر ایک کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لے کر اس کا سرٹیفکٹ یا ڈگری حاصل کرے ۔ یہ ڈگری ساری دنیا میں اس کے لیے کار آمد بن جائے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page