Al-Risala · July 2017 · page 15

ہجرت مدینہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۵

کرنا، قریش نے یک طرفہ طور پر حملہ کر کے آپ کو جنگ میں الجھانا چاہا، لیکن آپ نے دانش مندی کے ساتھ ان کو میخ کیا، اور ان کے حملوں کو جھڑپ (skirmish) بنا دیا، وغیرہ۔ یہ سب آپ نے اس لیے کیا تا کہ مشن کی ری پلاننگ کے لیے آپ نے جو عمل (process) جاری کیا تھا، وہ بلا رکاوٹ جاری رہے۔

پیغمبر اسلام کی اپنے مشن کی یہ ری پلاننگ پوری طرح کامیاب رہی۔ ہجرت کے آٹھویں سال یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ مکہ میں کسی جنگ کے بغیر آپ کو دوبارہ فاتحانہ داخلہ مل گیا۔ یہ واقعہ بھی اسی سلسلے کا ایک حصہ ہے کہ جب آپ کو مکہ پر غلبہ حاصل ہو گیا اور مکہ کے سردار آپ کے پاس لائے گئے ۔ یہ لوگ بین اقوامی اصطلاح کے مطابق جنگی مجرمین (prisoners of war) تھے۔ مگر آپ نے ان کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، بلکہ یہ کہہ کر سب کو چھوڑ دیا: أقول كما قال يوسف: لا تثريب عليكم اليوم يغفر الله لكم وهو أرحم الراحمين [12:92]. قال: فخرجوا كأنما نشروا من القبور فدخلوا في الإسلام (سنن الکبری للبیہقی، حدیث نمبر 18275)۔ یعنی میں وہی کہتا ہوں جو یوسف نے کہا: تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ تم کو معاف فرمائے، اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ حرم سے نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، پس وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔

قدیم مکہ کے سردار یہ جانتے تھے کہ ان کا کیس ظلم کا کیس ہے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام نے ان سب کو یک طرفہ طور پر معاف کر دیا۔ اس سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سرداروں میں ندامت کا جذبہ فطری طور پر پیدا ہو گیا، اور وہ پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گئے ۔ اس کے برعکس، اگر آپ ان سے انتقام کا معاملہ کرتے تو یقیناً ان کے اندر جوابی انتقام کا ذہن پیدا ہوتا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان انتقام در انتقام (chain reaction) کا ماحول قائم ہو جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ قانون اسباب کے مطابق پیغمبر اسلام کا پر امن مشن اپنے پہلے ہی تجربے میں غیر ضروری مشکلات کا شکار ہو جاتا۔ مگر اس اعلیٰ سلوک کی بنا پر پیغمبر کا مشن بلا توقف (non-stop) جاری رہا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page