Al-Risala · July 2017 · page 17

حدیبیہ کا منصوبہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۷

فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لینے کی آخری حد یہ تھی کہ جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو اس پر یہ الفاظ لکھے گئے: گیے:ہذا ما صالح عليه محمد رسول الله - فریق ثانی کے نمائندہ نے اعتراض کیا کہ ہم آپ کورسول نہیں مانتے، آپ لکھیے محمد بن عبد اللہ۔ پیغمبر اسلام نے اس مطالبہ کو بلا بحث مان لیا، اور حکم دیا کہ معاہدہ کے کاغذ پر لکھا جائے: امح يا علي واكتب : هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله (مسند احمد، حدیث نمبر 3187)۔

معاہدہ حدیبیہ کے بعد حالات میں انقلابی تبدیلی ہوئی۔ یہاں تک کہ دو سال کے اندر مکہ ناجنگ کے بغیر فتح ہو گیا— معاہدہ حدیبیہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اگر تم فتح چاہتے ہو تو پہلے اپنی شکست کو تسلیم کرو، اگر تم آگے بڑھنا چاہتے ہو تو پہلے پیچھے ہٹنے پر راضی ہو جاؤ، اگر تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ کا ٹائٹل صفحہ عالم پر لکھا جائے تو بوقت ضرورت تم اس کو کاغذ پر مٹانے کے لیے راضی ہو جاؤ۔ پریکٹیکل وزڈم کا ایک حکیمانہ اصول ہے، جس کو وقت حاصل کرنے کی تدبیر (buying-time strategy) کہا جا سکتا ہے۔ حدیبیہ میں قیام امن کے لیے فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان لینا گویا یہی تدبیر تھی۔ یہ تدبیر مؤثر ثابت ہوئی، اور اس کے بعد بہت کم مدت میں عرب میں ایک غیر خونی انقلاب (bloodless revolution) آ گیا۔ یہ واقعہ بھی باعتبارِ حقیقت ری پلاننگ کا ایک واقعہ تھا۔

قدیم زمانے میں جنگ معاہدہ عظیم قربانی کے بعد وقتی طور پر حاصل ہوا تھا۔ موجودہ زمانے میں یہ صورت حال ایک یونیورسل نارم (universal norm) کے طور پر دنیا میں قائم ہو چکی ہے۔ 1945 میں اقوام متحدہ (UNO) کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے تحت دنیا کی تمام قوموں نے اتفاق رائے سے یہ مان لیا ہے کہ ہر ایک کو پر امن عمل کی کلی آزادی حاصل ہوگی۔ کوئی قوم دوسری قوم پر حملہ نہیں کرے گی۔ کسی کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ دوسرے کو اپنا ہم خیال بنانے کے لیے اس پر جبر کرے ۔ اب تشدد (violence) اصولی طور پر ایک مجرمانہ فعل بن چکا ہے۔ بشرطیکہ انسان پوری طرح امن کے اصول پر قائم رہتے ہوئے اپنا کام کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page