بابری مسجد کا سبق
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۵
مسلم رہنماؤں کے لیے یہ وں قابل قبول نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عرب دنیا میں کمپلشن (compulsion) کی بنا پر کوئی دوسرا آپشن (option) موجود نہ تھا، جب کہ انڈیا میں آزادی کی بنا پر کوئی جبر موجود نہ تھا، اور مسلم رہنماؤں کو شعوری طور پر یہ معلوم ہی نہ تھا کہ ری پلاننگ بھی اسلام کا ایک مسلمہ اصول ہے۔
اس معاملے میں خود پیغمبر اسلام کے زمانے کی ایک رہنما مثال موجود تھی۔ وہ یہ کہ پیغمبر اسلام کی نبوت سے پہلے قدیم مکہ میں شدید بارش ہوئی، اور اس بنا پر کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا تھا۔ اس وقت قدیم مکہ کے مشرک سرداروں نے کعبہ کی عمارت از سر نو بنائی۔ مگر کسی وجہ سے انھوں نے ایسا کیا کہ کعبہ کے رقبہ کے ایک تہائی حصہ کو غیر مسقف حالت میں چھوڑ دیا، اور بقیہ حصہ میں کعبہ کی موجودہ عمارت بنادی۔ یہ غیر مسقف رقبہ بدستور سابق حالت میں موجود ہے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو خود کعبہ کی موجودہ عمارت گویا کہ ری لوکیشن کی ایک مثال ہے۔ کعبہ کی قدیم عمارت جو حضرت ابراہیم نے بنائی تھی، وہ لمبی عمارت تھی۔ جب کہ کعبہ کی موجودہ عمارت ایک چوکور عمارت ہے۔ یہ گویا کعبہ کی عمارت کو ری لوکیٹ کرنے کی ایک مثال ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام نے اس ری لوکیشن کو عملاً تسلیم کرلیا۔ انھوں نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ کعبہ کو دوبارہ اس کی قدیم بنیاد پر تعمیر کیا جائے۔ ری لوکیشن کا مطلب یہ ہے کہ ایک بلڈنگ کو اس کی جگہ بدل کر نئی جگہ پر اسی ساخت کے مطابق بنا دیا جائے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں لوگوں نے جگہ جگہ مسجدیں بنالی تھیں۔ بیسویں صدی میں جب عربوں کے پاس تیل کی دولت آئی تو انھوں نے اپنے شہروں کو پلاننگ سٹی کے انداز میں ڈیولپ کرنا شروع کیا۔ اس تعمیری منصوبہ میں جگہ جگہ مسجدیں حائل ہو رہی تھیں۔ تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسجدوں کو ری لوکیٹ کرکے کی شہری منصوبہ کی تکمیل کی جائے۔ یہ منصوبہ علماء کے فتویٰ کے مطابق تھا۔ چنانچہ عرب ملکوں میں بڑی تعداد میں مسجدیں ری لوکیٹ کی گئیں، اور ہر جگہ کے علماء نے اس کو ایک درست عمل کے طور پر تسلیم کرلیا۔ عرب دنیا کی یہ نظیر کافی تھی کہ ہندوستان میں بھی اس کو اختیار کر لیا جائے۔ مگر ہندوستانی علماء کے عدم اتفاق کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues