Al-Risala · July 2017 · page 33

صليبی جنگیں

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۳

مسیحی یورپ کا یہ عمل ری پلاننگ کی ایک مثال ہے۔ مسیحی یورپ نے پہلے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ وہ جنگ کی طاقت سے ارض مقدس پر قبضہ حاصل کریں۔ دوسوسال کی جنگ کے بعد جب یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو ان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ وہ جنگ کے میدان کے بجائے پرامن میدان میں اپنی کوشش صرف کریں۔ یہ ری پلاننگ کامیاب رہی، اور چند سو سال کی مدت میں صرف یہ نہیں ہوا کہ ایک نیا سیاسی دور وجود میں آ گیا ، بلکہ یہ ہوا کہ مسیحی یورپ نے نئے وسائل کے استعمال سے دوبارہ اس غلبہ کو زیادہ بڑے پیمانے پر حاصل کر لیا، جو سیاسی میدان میں ناکامی سے کھویا گیا تھا۔ اس علاقے کے مسلم رہنما اُس وقت اپنے معاملے کی ری پلاننگ نہ کر سکے، 1947 میں جب فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی ، اور اس میں فلسطین کا نصف حصہ عربوں کو دیا گیا۔ عرب رہنما کے لیے بھی یہ ایک ری پلاننگ کا وقت تھا۔ ان کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے پچھلے سیاسی مائنڈ سیٹ کو توڑیں، اور نئے حالات کے لحاظ سے اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو یقیناً آج فلسطین میں ایک طاقت ور سلطنت قائم ہوتی ۔ فلسطین کا جو علاقہ عربوں کے قبضے میں دیا گیا تھا، وہ فلسطین کا سب سے زیادہ اہم علاقہ تھا۔ نیز شام اور عراق اور اردن اور مصر پہلے ہی سے ان کے قبضے میں تھے۔ یہ پورا علاقہ ایک تاریخی علاقہ ہے۔ یہ علاقہ عالمی سیاحت کے لیے بہت زیادہ ٹورسٹ اٹریکشن (tourist attraction) رکھتا ہے۔ اگر اس علاقے میں امن قائم رہتا تو سیاحت کی انڈسٹری بہت زیادہ فروغ پاتی۔ اس سے عربوں کو نہ صرف اقتصادیات کے اعتبار سے غیر معمولی فائدے حاصل ہوتے ، بلکہ سیاحوں کی آمد و رفت سے اس علاقے میں دعوتی مشن کا کام بھی بہت بڑے پیمانے پر ہوسکتا تھا۔ مگر ری پلاننگ کی اہمیت کو نہ جاننے کی وجہ سے یہ عظیم موقع استعمال نہ ہوسکا۔ حسن البناء اور ان کے ساتھیوں نے 1947 میں قاہرہ کی سڑکوں پر بہت بڑا جلوس نکالا تھا۔ اس میں ان کا نعرہ تھا، لبیک یا فلسطین ۔ اگر وہ دانش مندی سے کام لیتے تو وہ لبیک ایھا الناس کے نعرے کے ساتھ اس علاقے میں داخل ہوتے ، اور یہاں اسلام اور مسلمانوں کا نیا مستقبل تعمیر کر سکتے تھے۔ مگر یہ عظیم موقع استعمال ہونے سے رہ گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page