Al-Risala · July 2017 · page 39

نوآبادیاتی نظام

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۹

بزنس ایمپائر (business empire) قائم کر رکھا ہے۔

اس معاملے میں مسلم قومیں آخری حد تک ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ قدیم زمانے میں دنیا کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم تھیں۔ نیا دور آیا تو ان کی حکومتیں فطری طور پر ختم ہو گئیں۔ اس کے بعد مسلمانوں میں رد عمل (reaction) پیدا ہوا۔ انھوں نے جہاد کے نام پر ساری دنیا میں لڑائی شروع کر دی۔ یہاں تک کہ وہ سوسائڈ بمبنگ کی انتہائی حد تک پہنچ گئے۔ لیکن تقریباً دو سو سال کی قربانیوں کے باوجود انھیں کچھ حاصل نہیں ہوا، وہ قدیم سیاسی نظام کو واپس لانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اس معاملے میں اپنے عمل کی ری پلاننگ کریں۔ یہ ری پلاننگ پوری طرح نان پولیٹیکل (non-political) ری پلاننگ ہوگی۔ قدیم زمانے میں اگر مسلمانوں نے اپنی حکومتیں قائم کی تھیں تو اب انھیں زیادہ بڑے پیمانے پر یہ موقع حاصل ہے کہ وہ پر امن دائرے میں اپنا ایک غیر سیاسی ایمپائر قائم کر سکیں۔ موجودہ زمانے میں جو نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، وہ قدیم زمانے کے مواقع کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ ہیں۔ ان جدید مواقع کو استعمال کرنا انتہائی حد تک ممکن ہے۔ اس کی شرط صرف یہ ہے کہ مسلمان تشدد (violence) کے ہر طریقے کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔

قدیم زمانے میں جو اہمیت فوجی طاقت کو حاصل ہوتی تھی، وہ اہمیت اب تنظیم کو حاصل ہو چکی ہے۔ اب مسلمانوں کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ عالمی تنظیم کے ذریعے اپنے کام کی ری پلاننگ کریں۔ وہ ایک امن پسند قوم کی طرح نئے مواقع کے حصول کی منصوبہ بندی کریں۔ اس نئی منصوبہ بندی میں ان کا ایک بڑا آئٹم قرآن کو عالمی سطح پر پھیلانا ہوگا۔ قرآن کے تراجم اگر دنیا کی تمام زبانوں میں تیار کیے جائیں، اور ان کو پرامن انداز میں ساری دنیا میں پھیلایا جائے تو یہ اپنے آپ میں اتنا بڑا کام ہوگا جو تمام بڑے کاموں کے مقابلے میں زیادہ بڑا کام بن جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج فتح مبین (الفتح: 1) کے واقعہ کو نئی طاقت کے ساتھ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ بشرطیکہ مسلمان ری پلاننگ کے آرٹ کو جانیں، اور اس کو دانش مندی کے ساتھ پرامن انداز میں رو بہ عمل لائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page