Al-Risala · July 2017 · page 46

خالصہ تحریک کا تجربہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۶

خالصہ تحریک کا تجربہ

مہاراجا رنجیت سنگھ (1839-1780) مشہور سکھ راجا تھے۔ ان کی حکومت ایک بڑے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔

سکھ کمیونٹی کے درمیان خالصہ تحریک کا آغاز برٹش پیریڈ میں ہوا۔ اس کا مقصد تھا مہاراجہ رنجیت سنگھ کی پولیٹیکل گلوری کو واپس لانا۔ ملک کی تقسیم کے بعد اس کا دائرہ محدود ہو گیا۔ مگر 1979 میں خالصتان نیشنل موومنٹ کے ذریعہ اس کا احیاء ہوا۔ اس کے بعد سکھ دانشوروں نے محسوس کیا کہ ان کی خالصہ تحریک کا ؤنٹر پروڈکٹیو (counter-productive) ثابت ہو رہی ہے۔ بظاہر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نبیس۔ اس سے سکھ کمیونٹی کے دانشوروں میں نئی سوچ جاگی۔ انھوں نے اپنی کمیونٹی کے اندر وہی ذہن پیدا کیا جس کو ہم نے ری پلاننگ کہا ہے۔ یعنی مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور کو گزری ہوئی تاریخ کا حصہ قرار دینا، اور نئے حالات کے تحت اپنے عمل کی ری پلاننگ کرنا۔ کچھ سکھ دانشوروں نے اپنی کمیونٹی کو بتایا کہ انڈیا کی آزادی (1947) کے بعد سکھ کمیونٹی نے انڈیا میں کافی ترقی کی ہے۔ انڈیا میں ان کی تعداد صرف دو فیصد ہے، مگر عملاً وہ انڈیا کی ہیں فیصد (20%) اقتصادیات (economy) کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس کے بعد خالصہ تحریک کے لیڈر سردار جگجیت سنگھ چوہان (وفات: 2007) اپنی کمیونٹی میں غیر مقبول شخصیت بن گئے۔ اب سکھ کمیونٹی کے لوگوں نے ری پلاننگ کے ذہن کے تحت عمل کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اب پنجاب انڈیا کے خوشحال ریاستوں میں سے ایک ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page