معرفت قرآن
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۴
معرفت قرآن
قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں، جن میں فطرت کے مظاہر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مثلاً پہاڑ کا حوالہ، بارش کا حوالہ، وغیرہ۔ ان حوالوں کو علمی زبان میں مظاہر فطرت ( phenomena of nature ) کہا جاتا ہے۔ مگر یہ حوالے اشارے کی زبان میں ہیں۔ ان کی تفصیلی واقفیت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو انسان کی دریافت کردہ معلومات کی روشنی میں سمجھا جائے۔ اس حیثیت سے انسانی تحقیق کے ذریعہ ان فطری مظاہر پر جو دریافتیں ہوئی ہیں، وہ دریافتیں قرآن کی تفسیر کے لیے عملی ضرورت کے اعتبار سے اسی طرح اہم ہیں، جس طرح تفسیر قرآن کے دوسرے متفقہ مصادر۔ مثلاً شان نزول کی روایتیں، وغیرہ۔
اس سلسلے میں یہاں قرآن کی دو آیتیں قابلِ مطالعہ ہیں۔ وہ آیتیں یہ ہیں: وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ فَمَنِ اهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنذِرِينَ وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَتَعْرِفُونَہَا ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (93-27:92)۔ یعنی اور یہ کہ میں قرآن کو سناؤں۔ پھر جو شخص راہ پر آئے گا تو وہ اپنے لئے راہ پر آئے گا اور جو گمراہ ہوا تو کہہ دو کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں۔ اور کہو کہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے، وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان لو گے، اور تمہارا رب اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو۔ قرآن کے اس بیان پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں قرآن کی معرفت کا ایک اصول بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں، جن میں فطرت کے مظاہر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر اشاراتی زبان میں ہے۔ ان مظاہرِ فطرت میں جو معرفت کی بات موجود ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان اشارات کی تفصیل معلوم کی جائے۔ یہ تفصیل خود قرآن میں مذکور نہیں، وہ فطرت کے خارجی علم کا سائنسی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتی ہے۔ گویا کہ فطرت کا علم ان آیتوں کو سمجھنے کے لیے ان کی سائنسی تفسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues