Al-Risala · August 2017 · page 37

If events are due to natural causes, they are

الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۳۷

ذہن کارفرما تھے۔ تاہم علامتی طور پر چار افراد کو اس معاملے میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ان چار افراد نے انسانی تاریخ کو ایک نیا رخ یا الحادی رخ دیا۔ اُن کے نام یہ ہیں— آئزاک نیوٹن، چارلس ڈارون، سگمنڈ فرائڈ، کارل مارکس:

1. Isaac Newton: from divine interpretation to mechanical 2. Charles Darwin: from Special Creation to Natural 3. Sigmund Freud: from harnessing desires to following 4. Karl Marx: from duty-conscious society to 1 - برٹش سائنس داں آئزاک نیوٹن (وفات 1727) اصلاً صرف ایک سائنس داں تھا۔ اس کا موضوع تھا مادی دنیا میں حرکت (motion) کی توجیہہ کرنا۔ اس نے دریافت کیا کہ مادی دنیا میں حرکت کا نظام میکانکل قوانین (mechanical laws) کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً شمسی نظام میں سیاروں کی گردش کا قانون ۔ نیوٹن کی دریافت کا کوئی تعلق مذہبی عقائد سے نہ تھا، لیکن ملحد مفکرین نے اس دریافت کو الحاد کے حق میں استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر واقعات فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں تو وہ فوق الفطری سبب کے تحت نہیں ہو سکتے:

If events are due to natural causes, they are

یہ استدلال بلا شبہ ایک غیر منطقی استدلال تھا، کیوں کہ نیوٹن کی تشریح جس چیز کو بتا رہی تھی، وہ صرف ظاہری سبب تھا۔ اس کے بعد بھی یہ سوال تھا کہ اسباب کے پیچھے مسبب (cause of the causes) کون ہے۔ اس معاملے میں ملحدین کا استدلال تمام تر ایک مغالطے پر مبنی تھا، وہ کوئی سائنسی استدلال نہ تھا۔ لیکن ملحد مفکرین کی یہ توجیہہ وقت کے ذوق کے مطابق تھی، اس لیے وہ عمومی طور پر پھیل گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues

Printed page