دورِ مواصلات
الرسالہ، اگست ۲۰۱۷، صفحہ ۴۱
دورِ مواصلات
قرآن کی سورہ بنی اسرائیل میں ایک آیت آئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (17:70)۔ یعنی ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی، اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا۔ اس دنیا میں موجود تمام حیوان اپنے پیروں کے ذریعہ سفر کرتے ہیں، چڑیا کا سفر اپنے پر کے ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ انسان کی ایک امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ خارجی سواری کے ذریعہ اپنا سفر کر سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں جدید مواصلات (modern communication) کی ایجاد نے سواری (transportation) کے تصور کو بہت بڑھا دیا ہے۔ آج کے انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ جسمانی حمل و نقل (physical transportation) سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ سفر کرے اور اسی کے ساتھ افکار کے حمل و نقل (transportation of ideas) کو بھی نہایت سرعت رفتار سے انجام دے سکے۔
قرآن کی مذکورہ آیت میں براہ راست طور پر صرف حیوانی مواصلات کا ذکر ہے، مگر بالواسطہ طور پر اس میں ہر قسم کے مواصلات بشمول مواصلات بذریعہ ٹکنالوجی کا اشارہ موجود ہے۔ آدمی اگر اس آیت کو اس کے وسیع مفہوم (extended meaning) کے ساتھ پڑھے تو یہ آیت اس کے لیے کائناتی معرفت کا ذریعہ بن جائے گی۔ اس آیت میں وہ اللہ کی کائناتی نعمت کو دریافت کرے گا۔ یہ ایک آیت اس کے لیے بلین ٹریلین سے بھی زیادہ معانی کا خزانہ بن جائے گی۔ قرآن معروف معنوں میں کوئی معلوماتی کتاب نہیں۔ لیکن قرآن کے اندر وہ تمام معلومات موجود ہیں، جن کا تعلق معرفت سے ہے۔ یہ معلومات زیادہ تراشارات کی صورت میں ہیں۔ ان آیتوں پر غور کر کے ان کے اندر چھپے ہوئے معانی کو دریافت کیا جاسکتا ہے۔ یہی وہ تدبر اور تفکر ہے جس سے معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو آدمی کے ایمان کو یقین کے درجے تک پہنچادیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں تدبر کو نصیحت (ص: 29) کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2017 All issues