آدم کی سنت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴
آدم کی سنت
آدم اور ابلیس کا قصہ قرآن میں بار بار بیان ہوا ہے۔ قرآن میں اللہ رب العالمین کی زبان سے کہا گیا ہے کہ آدم کو جنت سے نکالنے والا ابلیس تھا (الاعراف: 2 دوسری طرف قرآن کی کئی آیتوں میں آدم کا کردار بتایا گیا ہے۔ اس معلوم حقیقت کے باوجود کہ ابلیس نے آدم کو بہکا کر جنت سے نکالا۔ آدم نے کبھی ایک بار بھی یہ نہیں کیا کہ وہ ابلیس کو دشمن بتا کر اس کے خلاف شکایت اور احتجاج کا طوفان برپا کرے، اس کے خلاف بد دعائیں کرے ۔ اس کے برعکس آدم نے جو کیا وہ صرف توبہ تھی۔ انھوں نے اللہ سے یہ دعا کی: رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ (23: 7)۔ یعنی اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہ کرے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔ قرآن کے اس بیان سے ایک مسئلہ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اگر کوئی ثابت شدہ دشمن موجود ہو، کسی نے سازش کر کے نقصان پہنچایا ہو، تب بھی انسان کو دوسرے کے خلاف شکایت یا احتجاج نہیں کرنا ہے، بلکہ یہ سوچنا ہے کہ میں اس کی سازش کا شکار کیوں بنا۔ ایسے موقع پر دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے، اپنی اس غلطی کو دریافت کرنا چاہیے کہ اس کے بھٹکنے کا سبب کیا تھا۔ اس طرح کے معاملے میں دوسرے کو برا بتانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برعکس، اگر آدمی اپنی غلطی کو مانے تو اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی کمزوری کو دریافت کرے گا، اور اس طرح اس کو یہ موقع ملے گا کہ وہ اپنی اصلاح کرکے آئندہ اپنے آپ کو نقصان سے بچائے۔ دوسرے کے خلاف شکایت کرنا، باعتبار نتیجہ اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے، اس کے برعکس اگر آدمی اپنی غلطی کو مانے تو اس کو یہ موقع ہوگا کہ وہ اپنی کمزوری کو شعوری طور پر جانے اور اس کی اصلاح کے ذریعہ اپنے کو درست کرلے۔ کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف ہنگامہ کرنا کوئی کام ہی نہیں۔ کام صرف یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی کو مانے، اور اس کی اصلاح کرے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues