Al-Risala · September 2017 · page 36

پیغمبر اسلام کا مشن

الرسالہ، ستمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

زمانہ قبائلی زمانہ (tribal age) تھا۔ قبائلی دور میں اختلاف کو طے کرنے کا ایک ہی ذریعہ تھا، اور وہ تلوار (sword) تھا۔ اس بنا پر اس زمانے میں اہل ایمان کو بطور دفاع قتال کے میدان میں فریق ثانی کا مقابلہ کرنا پڑا۔ لیکن اب دورِ سیف (age of sword) ختم ہو چکا ہے۔ اب ساری دنیا میں معاملات کو طے کرنے کی ایک ہی مُسَلَّم بنیاد ہے، اور وہ پر امن طریقہ کار یا پر امن گفت و شنید (peaceful negotiation) کا طریقہ ہے۔ اس لیے اب اہل ایمان کو کسی سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب ان کے لیے اعدادِ قوت (الانفال: 60) کا انطباقی مفہوم (applied meaning) یہ ہے کہ وہ پر امن گفت و شنید اور دلیل کے اعتبار سے اپنے آپ کو تیار کریں۔ موجودہ زمانے میں تلوار کے اعتبار سے اپنے آپ کو تیار کرنا، ایک غیر متعلق (irrelevant) بات ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کو دنیا کی تمام قوموں نے جان لیا ہے۔ مثلاً دوسری عالمی جنگ (1939-1945) کے زمانے میں برطانیہ، جرمنی، فرانس اور جاپان باقاعدہ طور پر جنگ میں شریک تھے۔ لیکن جنگ کے بعد انھوں نے یہ دریافت کیا کہ اب چیزیں پر امن طریقہ کار سے ملتی ہیں، نہ کہ پر تشدد طریقہ کار سے۔ چناں چہ انھوں نے جنگ کے اس معاملہ میں یوٹرن (u-turn) لے لیا۔ انھوں نے اپنی پالیسی امن کی بنیاد پر بنائی، نہ کہ پہلے کی طرح جنگ کی بنیاد پر۔ واقعہ کا یہ پہلو بتاتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں جو غزوات پیش آئے، وہ زمانی سبب (age factor) کی بنیاد پر پیش آئے، وہ ابدی معنوں میں اسلام کی تعلیم کا حصہ نہ تھے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اسلام کے دورِ اول میں جو جنگیں پیش آئیں، وہ اسلام کی تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ اسلام کی ابدی تعلیمات کا حصہ۔ اب جنگ کے طریقہ کو پہلے کی طرح جاری رکھنا صرف خلاف زمانہ حرکت (anachronism) کے ہم معنی ہوگا، نہ کہ واقعی معنوں میں کوئی مطلوب کام۔ مسلم فقہاء جس چیز کو نصبِ امامت کہتے ہیں، اس کا تعلق بھی حالات سے ہے، نہ کہ عقیدہ کی طرح ابدی تعلیمات سے۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں نصبِ امامت کا واقعہ بطورِ وقتی ضرورت پیش آیا۔ اب اگر اس کو اسلام کی مستقل تعلیم کا حصہ قرار دیا جائے تو یہ دین کو تاریخ سے اخذ کرنے کے ہم

‹ Previous page Next page › Contents of September 2017 All issues

Printed page