حج کی اجتماعی اہمیت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴
حج کی اجتماعی اہمیت
حج اسلام کی ایک نہایت اہم سالانہ عبادت ہے۔ وہ قمری کلنڈر کے آخری ماہ ذوالحجہ میں ادا کیا جاتا ہے۔ حج کی عبادت کے مراسم بیت اللہ (مکہ) میں یا اس کے آس پاس کے مقامات پر ادا کیے جاتے ہیں جو عرب میں واقع ہے۔ اس عبادت کو تمام عبادت کا جامع کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس میں ہر قسم کے عبادتی پہلو پائے جاتے ہیں۔ انہی میں سے ایک اجتماعی پہلو بھی ہے۔ حج کی عبادت میں اجتماعیت کا پہلو بہت نمایاں طور پر موجود ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا (1984) میں حج کی تفصیل دیتے ہوئے یہ جملہ لکھا گیا ہے :
About 2,000,000 persons perform the Hajj each year, and the rite serves as a unifying force in Islam by bringing followers of diverse background together in religious celebration. (V.IV, p. 844)
تقریباً دو ملین آدمی ہر سال حج کرتے ہیں اور یہ عبادت مختلف ملکوں کے مسلمانوں کو ایک مذہبی تقریب میں یکجا کر کے اسلام میں اتحادی طاقت کا کام کرتی ہے۔ قرآن میں حج کا حکم دیتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا (2:125) یعنی خدا نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مثابہ بنایا اور اس کو امن کی جگہ بنا دیا۔ مثابہ کے معنی عربی زبان میں تقریباً وہی ہیں جس کو آج کل کی زبان میں مرکز کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہوں۔ جس کی طرف سب لوگ رجوع کریں، جو سب کا مشترک مرجع اور شیرازہ ہو۔
حج کی عبادت کے لیے ساری دنیا کے مسلمان آتے ہیں۔ ان کی تعداد سالانہ تقریباً 2 ملین ہو جاتی ہے۔ حج کے موسم میں مکہ اور اس کے آس پاس ہر طرف آدمی ہی آدمی دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہ لوگ مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ ان کے حلیے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مگر یہاں آنے کے بعد سب
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues