Al-Risala · October 2017 · page 13

Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۳

بہت بڑی انسانی قدر سمجھی جاتی تھی۔ اور قطع رحمی کو وہ بہت بُرا سمجھتے تھے۔ اس لیے اس کا سوال ہی نہ تھا کہ وہ معاہدہ کے لیے ایسا خاکہ پیش کریں جس میں قطع رحم کی دفعہ رکھی گئی ہو۔ باعتبار حقیقت رسول اللہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ میں ہر قیمت پر قریش سے صلح کرلوں گا۔ اس بات کو کہنے کے باعزت طریقہ کے طور پر آپ نے فرمایا کہ میں قریش کی طرف سے صُلح کے ہر خاکہ کو منظور کرلوں گا بشرطیکہ اٌس میں قطع رحم نہ پایا جاتا ہو۔ حالانکہ پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ وہ قطع رحم کی شرط کبھی نہیں رکھیں گے۔ 3۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو جلد ہی یہاں کے باشندوں کی اکثریت اسلام میں داخل ہوگئی۔ اُس وقت مدینہ میں ایک شخص تھا جس کا نام عبداللہ بن ابی تھا۔ وہ اپنے زمانہ کا ایک بڑا لیڈر تھا۔ وہ بھی اگر چہ اپنے قبیلہ والوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہو گیا مگر اُس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حسد کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر آپ کے خلاف شر انگیز باتیں کیا کرتا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملہ کا ذکر مدینہ کے ایک مسلمان اسید بن حضیر سے کیا۔ انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا: یا رسول اللہ، ارفق به، فو اللہ لقد جاءنا اللہ بك، وإن قومه لينظمون له الخرز ليتوجوه، فإنه ليرى أنك قد استلبته ملكا (سيرت ابن هشام، 2/292) یعنی اے خدا کے رسول، اُس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیجئے، خدا کی قسم، اللہ آپ کو ہمارے پاس لے آیا اور اُس کی قوم کے لوگ اٌس کے لیے جواہر کا تاج تیار کر رہے تھے تا کہ وہ اُس کو بادشاہ بنائیں ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ نے اُس کا مقام اٌس سے چھین لیا ہے۔ یہ حسن اعراض کی ایک حکیمانہ مثال ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ عبداللہ بن ابی کی شر انگیزی کا جواب سختی کے ساتھ دیا جاتا۔ صحابی نے گویا اپنے جواب میں یہ بتایا کہ اس معاملہ میں سختی کی ضرورت نہیں۔ حسن اعراض ہی اس مسئلہ کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔

4۔ اوپر ہجر جمیل کی وہ مثالیں ہیں جو سطور میں ہوتی ہیں۔ اب ایک بین السطور کی مثال لیجیے۔ جب کسی معاملہ میں ہجر جمیل کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اُس میں ایک اور بات پوشیدہ ہوتی ہے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page