Al-Risala · October 2017 · page 15

Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۵

ختم ہو جائے گی۔

ایسی حالت میں لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک رویہ درست ہے۔ یا تو وہ اتنا زیادہ ہوش مند ہوں کہ سطور کے اندر بین السطور کو پڑھ لیں۔ وہ اعلان کے بغیر اُس کی اہمیت کو دریافت کر لیں۔ جن لوگوں کے اندر اتنی ہوش مندی نہیں ہے اُن کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر کی بصیرت پر اعتماد کریں۔ وہ صرف اعتماد اور حسن ظن کی بنا پر یہ عقیدہ رکھیں کہ اُن کے رہنما نے جو بات کہی ہے اُس کے پیچھے ضرور کوئی گہری مصلحت ہوگی۔ ہمارا کام اپنے رہنما کی اتباع کرنا ہے، نہ کہ اُس کی دیانت داری (integrity) پر شک کرنا۔

5۔ صلح حدیبیہ بظاہر ایک ایسی صلح تھی جو دشمن کے مقابلہ میں دب کر کی گئی۔ مگر اس کے اندر ایک غیر اعلان شدہ مقصد چھپا ہوا تھا اور وہ تھا۔ ٹکراؤ کو اَوائڈ کرکے اپنے لیے وقفہ تعمیر حاصل کرنا۔ اگر یہ بات معاہدہ کے متن میں لکھ دی جاتی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے درمیان اُسی وقت اس کا اعلان کر دیتے تو صلح کے مقاصد سرے سے فوت ہو جاتے۔ اس قسم کے مقاصد ہمیشہ اعلان کے بغیر ہوتے ہیں، نہ کہ اعلان کے ساتھ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہاں تک کہ بعد کو جب اس کا عملی نتیجہ ظاہر ہو گیا ، اُس وقت لوگوں نے جانا کہ اس صلح کے اندر کتنی بڑی مصلحت چھپی ہوئی تھی۔

یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت ابو بکر صدیق نے بعد کے زمانہ میں ان الفاظ میں بیان کی: ما كان فتح في الإسلام أعظم من فتح الحديبية، ولكن الناس يومئذ قصر رأيهم عما كان بين محمد وربه، والعباد يعجلون، والله تبارك وتعالى لا يعجل كعجلة العباد حتى تبلغ الأمور ما أراد الله (مغازى الواقدى، 2/610)۔ یعنی اسلام میں حدیبیہ کی فتح سب سے بڑی فتح تھی۔ لیکن معاہدہ کے دن لوگوں کو اس بات میں رائے قائم کرنے میں کوتاہی ہوئی جو محمد اور آپ کے رب کے درمیان تھا۔ انسان عجلت پسند ہے اور اللہ انسانوں کی طرح عجلت نہیں کرتا۔ یہاں تک کہ معاملہ وہاں تک پہنچ جائے جو اللہ چاہتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page