Al-Risala · October 2017 · page 17

Sir, I am not Mr. Idiot, I am Zakir Husain.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۷

لائیں جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔

پیغمبرِ اسلام کے یک طرفہ حسنِ سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے یہ تمام لوگ اسلام میں داخل ہو گئے۔ راوی کہتے ہیں: فخرجوا کانما نشروا من القبور، فدخلوا في الإسلام۔ یعنی پھر وہ لوگ وہاں سے اس طرح نکلے جیسے کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں اور وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ (دیکھیے، السنن الکبری للبیہقی، 9/199، حدیث نمبر 76-18275)

پیغمبر اسلام اگر اس کے برعکس اُن دشمنوں سے اُن کی ظالمانہ روش کا انتقام لیتے تو اس کے بعد یہ ہوتا کہ وہاں انتقام در انتقام کا دور چل پڑتا۔ ایک انتقام کے بعد دوسرا انتقام شروع ہو جاتا اور پھر حالات ایسا منفی رُخ اختیار کر لیتے کہ سارا تعمیری منصوبہ درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ غیر فطری ردعمل جب کوئی خلاف مزاج بات پیش آئے تو اُس کے مقابلہ میں آدمی کی روش کی دو مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک جذباتی ردعمل کا طریقہ، اور دوسرا غیر جذباتی ردعمل کا طریقہ۔ جذباتی ردعمل عین وہی چیز ہے جس کو میڈیکل اصطلاح میں الرجی (allergy) کہا جاتا ہے۔ الرجی کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے کہ الرجی نام ہے معتدل حالات میں غیر معتدل ردعمل کا۔ Abnormal reaction to normal things. مثلاً اپنے خلاف تنقید کو سُن کر غصہ ہونا، اس قسم کی ایک الرجی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کی کسی بات پر تنقید کرتا ہے تو اُس کا معتدل اور فطری ردعمل یہ ہے کہ آپ کھلے ذہن کے ساتھ اُس کو سنیں اور کھلے ذہن کے ساتھ اُس پر غور کریں۔ اگر تنقید غلط ہے تو آپ کو چاہیے کہ آپ دلیل کے ساتھ اُس کا جواب دیں اور اگر تنقید درست ہے تو سیدھی طرح اُس کو مان لیں۔ اس کے برعکس تنقید کو سُن کر بگڑ جانا تنقید کا غیر معتدل اور غیر فطری انداز میں جواب دینا ہے۔ پہلی صورت مریضانہ ذہنیت کا ثبوت ہے اور دوسری صورت صحت مند ذہنیت کا ثبوت۔

اسی طرح مخالفانہ نعرہ کو سُن کر مشتعل ہو جانا، توہین کے کسی معاملہ پر بھڑک اٹھنا، اپنے راستہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page