Al-Risala · October 2017 · page 19

با مقصد انسان کا کردار

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۹

با مقصد انسان کا کردار

صہیب بن سنان الرومی اُن اصحابِ رسول میں سے ہیں جنہوں نے دورِ اول میں اسلام قبول کیا۔ اُن کی پیدائش موصل میں ہوئی۔ انہوں نے مدینہ میں ۳۸ھ میں وفات پائی۔ بوقتِ وفات اُن کی عمر تقریباً ستّر سال تھی۔ اُن سے تین سوسات حدیثیں مروی ہیں۔ اُن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أنا سابق العرب، و صہیب سابق الروم الروم(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 7288)۔

صہیب رومی کا تذکرہ تاریخِ اسلام کی اکثر کتابوں میں آیا ہے۔ مثلاً طبقات ابن سعد، تاریخ ابن عساکر، وغیرہ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صہیب رومی ایک اونچے خاندان کے فرد تھے۔ پھر وہ مکہ میں تجارت کرنے لگے۔ انہوں نے تجارت میں کافی دولت کمائی (كان صہیب قد ربح مالا وفیرا من تجارتہ)۔ سیر اعلام النبلاء، 3/210۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کے لیے ہجرت فرمائی تو صہیب رومی نے بھی ہجرت کا فیصلہ کیا۔ روایات بتاتی ہیں کہ اُن کی ہجرت کی خبر لوگوں کو ہو گئی۔ چنانچہ قریش کے کچھ نوجوان اُن کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ تم نے اپنا یہ مال مکہ میں حاصل کیا ہے۔ اس کو لے کر ہم تم کو مدینہ نہیں جانے دیں گے۔ صہیب رومی نے کہا کہ اگر میں تم کو اپنا مال دے دوں تو کیا تم مجھ کو جانے دو گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس کے بعد صہیب رومی نے اپنا سارا مال اُن کے حوالہ کر دیا (فجعل لهم ماله أجمع)۔ الطبقات الکبریٰ لابن سعد، 3/227۔

اپنا مال قریش کے حوالہ کر کے صہیب رومی مدینہ کے لیے روانہ ہوئے۔ وہ مدینہ پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپ کو مکہ کا پورا واقعہ بتایا۔ اُس کو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا أبا یحیی ربح البیع (آے ابو یحییٰ، تمہاری تجارت کامیاب رہی۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں: ربح صہیب، ربح صہیب (صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب

‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues

Printed page