حکمت کی آفاقیت
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۴۸
حکمت کی آفاقیت
ایک حدیثِ رسول سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ، وغیرہ کتبِ حدیث میں آئی ہے۔ مسند الشہاب القضاعی کے الفاظ یہ ہیں: الحكمة ضالة المؤمن، حيثما وجد المؤمن ضالته فليجمعها إليه (حدیث نمبر (146) ۔ یعنی حکمت مومن کا گمشدہ مال ہے، جہاں بھی مومن اپنے گمشدہ مال کو پائے، وہ اس کو اپنے پاس اکٹھا کر لے۔
حکمت (wisdom) کی بات کیوں مومن کا حق ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہر حکمت ایک ربانی عطیہ ہے۔ اور جو چیز ربانی عطیہ (divine gift) ہو، وہ کسی کی اجارہ داری (monopoly) نہیں ہو سکتی۔ ہر ربانی عطیہ ایک آفاقی نعمت ہے۔ اور آفاقی نعمت میں ہر انسان کا مشترک حصہ ہوتا ہے۔ حکمت سے مراد مادی تخلیقات بھی ہیں، اور حکمت و بصیرت کی باتیں بھی۔ جس طرح سورج اور پانی خالق کا آفاقی عطیہ ہے، اسی طرح قانونِ فطرت (law of nature) میں تحقیق سے حاصل ہونے والی حقیقتیں بھی آفاقی نعمتیں ہیں۔ وہ ہر انسان کا حصہ ہیں، مومن کا بھی اور غیر مومن کا بھی۔ عطیاتِ الہی میں تفریق یقیناً جائز نہیں۔
عطیات الہی کے بارے میں یہ آفاقی نظریہ ایک انقلابی نظریہ ہے۔ وہ انسان کی سوچ کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر وہ محققین جنھوں نے اپنی زندگیاں وقف کر کے فطرت کے قوانین کو دریافت کیا، وہ شخصیتیں بھی پوری انسانیت کا حصہ ہیں۔ اس طرح یہ نظریہ آدمی کے اندر ایک یونیورسل آؤٹ لک (universal outlook) پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد متعصبانہ طرزِ فکر کی جڑ کٹ جاتی ہے، دوست اور دشمن کی تفریق ختم ہو جاتی ہے، ہر انسان کو دوسرا انسان اپنا دوست نظر آنے لگتا ہے۔ یہ نظریہ نفرت کا قاتل ہے۔ وہ عالمی محبت کو فروغ دینے والا ہے۔ اس حدیث میں حکمت سے مراد صرف حکمت دین نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ہر وہ حکمت ہے، جو درست اور مفید ہو، جو حقیقتِ واقعہ کے مطابق ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues