دہشت گردی کیا ہے
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۳
غلط فہمی
یہ 13 مارچ 2002 کا واقعہ ہے۔ نئی دہلی کے کیٹ آفس (CAT office) میں ڈاکٹر شمس الآفاق صاحب اپنے کام سے گئے ہوئے تھے۔ وہاں حسب معمول دوسرے بہت سے لوگ تھے۔ ایک آدمی ان کے سامنے تھا۔ ڈاکٹر صاحب آگے جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اس آدمی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا کہ مجھے راستہ دے دو۔ آفس میں اپنے کام سے فارغ ہو کر جب وہ نکلے تو گیٹ کے باہر دو آدمی کھڑے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک وہی شخص تھا جس کی پیٹھ پر ڈاکٹر صاحب نے ہاتھ رکھا تھا۔ اور دوسرا اس کا ساتھی تھا۔ دونوں صورت سے جاٹ معلوم ہوتے تھے۔ مذکورہ آدمی نے جیسے ہی ڈاکٹر صاحب کو دیکھا وہ اچانک بگڑ گیا۔ وہ نہایت اشتعال انگیز لہجہ میں ان کو برا بھلا کہنے لگا۔ حتی کہ اس نے کہا کہ راجندر ، تم کیا سمجھتے ہو، میں تم کو گولی مار دوں گا۔ ڈاکٹر شمس الآفاق صاحب اعراض کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اب تک بالکل خاموش تھے۔ جب اس آدمی نے راجندر کا نام لیا تو انہوں نے فوراً محسوس کیا کہ یہ غلط فہمی کا معاملہ ہے۔ ابھی وہ چپ ہی تھے کہ ان کے ساتھی مسٹر اشوک کمار نے کہا کہ بھائی، تم کو غلط فہمی ہوئی ہے، یہ تو ڈاکٹر شمس الآفاق ہیں۔ اور یہ فلاں سر کاری محکمہ میں افسر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ اس آدمی کو یقین نہیں آیا۔ شاید اس کے مفروضہ راجندر کی صورت ڈاکٹر صاحب سے کچھ ملتی جلتی تھی۔ اس کی طلب پر ڈاکٹر صاحب نے اپنی جیب سے اپنا آئڈینٹی کارڈ نکالا اور اس آدمی کو دکھایا۔ آئڈینٹی کارڈ کو دیکھتے ہی وہ ایسا ہو گیا جیسے پھولے ہوئے غبارے کی ہوا اچانک نکل گئی ہو۔ اور پھر وہ سر جھکا کر خاموشی کے ساتھ چلا گیا۔ اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کے خلاف بُرا برتاؤ کرے تو فوراً اُس کو اپنا دشمن نہ سمجھ لیجئے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے برے برتاؤ کا سبب اس کی غلط فہمی ہو۔ اگر آپ صبر و اعراض کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اس سے نرمی کا معاملہ کریں تو عین ممکن ہے کہ آپ کی صحیح تصویر کو جاننے کے بعد اس کا رویہ بالکل بدل جائے۔ گولی مارنے کی بات کرنے والا آدمی آپ کو
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues