بے بنیاد شکایت
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۹
گمراہی میں ڈال کر انہیں اُس کا انجام بھگتنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنا ذاتی مسئلہ تو ہوشیاری کے ساتھ درست کر لیتے ہیں، مگر وہ عوام کو بدستور بے شعوری کی حالت میں چھوڑ دیتے ہیں۔ تا کہ وہ اُس کی بھاری قیمت ادا کرتے رہیں، اور کبھی ترقی نہ کر سکیں ۔ ترقی کے لیے صحیح طریقہ غیر جانبدارانہ انداز میں نصیحت کا طریقہ ہے۔ مگر مسلمانوں میں کوئی غیر جانبدارانہ نصیحت کی بولی بولنے کے لیے تیار نہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات کو میں 1947ء سے مسلسل دیکھتارہاہوں۔ میرا تجربہ ہے کہ مسلمان اپنے مسئلہ کا حل قرآن میں نہیں ڈھونڈتے، وہ دوسروں کی باتیں سُن کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ اسلام اُن کی زندگی کا صرف ایک رسمی حصہ ہے۔ اسلام اُن کا قومی کلچر ہے، وہ اُن کا دین نہیں۔ موجودہ مسلمانوں کی اجتماعی سوچ اور اُن کی ملی پالیسی قرآن سے ماخوذ نہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کے بیانات، ہیومن رائٹس اور کمیشن کی رپورٹیں، تعلیم یافتہ طبقہ کا اظہار خیال، یہی مسلمانوں کی ذہن سازی کے ذریعے ہیں۔ اُن کا مشترک طریقہ یہ ہے کہ وہ حالات کو قانون اور منطق کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بھی انہوں نے جنگ کی آگ بھڑکائی تو خدا نے اس آگ کو بجھا دیا (المائدہ : 64)۔
اس اعتبار سے دیکھئے تو دوسروں کا طریقہ آگ بھڑکانے والوں کا ہے۔ جب کہ قرآن کے مطابق، مسلمانوں کا طریقہ آگ بجھانے کا ہونا چاہیے، نہ کہ ایسا طریقہ اختیار کرنا جو آگ کو مزید بھڑکانے کا سبب بن جائے___ اس طرح کے معاملات میں قرآن کا طریقہ اصلاح خویش کے اصول پر قائم ہے، اور دوسروں کا طریقہ احتساب غیر کے اصول پر۔
☆☆☆☆☆☆
انسان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی نعمتوں کو دیکھ کر آخرت کی نعمتوں کو یاد کرے ۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ قرآن کے مطابق، دنیا میں گم ہو کر آخرت کو بھول گئے ہیں (الدھر : 27)۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2017 All issues