امن کا معاملہ
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۶
امن کا معاملہ
دنیا کا قانون یہ ہے کہ یہاں ہر چیز آپ کو پونشل (potential) کی صورت میں ملتی ہے۔ آپ کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ آپ اس پونشل کو دریافت کریں، اور پونشل کو ذاتی عمل سے اپنے لیے اکیچول (actual) بنائیں ۔ مثلاً درخت کا پھل آپ کو خود سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ آپ کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ زرخیز زمین (soil) میں ایک پودا لگائیں۔ اس کی نگہداشت کرتے ہوئے اس کو اگانا شروع کریں۔ اس طرح وہ وقت آتا ہے، جب کہ درخت ایک مکمل درخت بن جائے، اور اپنا پھل آپ کو دینا شروع کرے ۔ یہی معاملہ امن کا بھی ہے۔ آج ہم ایچ آف پیس میں جی رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امن ایک زندہ امکان کے طور پر ہر جگہ موجود ہو چکا ہے۔ اب آپ کا کام یہ ہے کہ امن کو اسپرٹ آف دی ایچ کی حیثیت سے دریافت کریں، اور پھر اس کے مطابق اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرکے کامیابی حاصل کریں۔ کامیابی کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے، آئیڈیالوجی اور میتھڈ ۔ قدیم زمانے میں انسان کے پاس اگر آئیڈیالوجی موجود ہو تب بھی کامیابی کا حصول سخت مشکل ہوتا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ قدیم زمانے میں صرف پر تشدد طریقہ کار (violent method) ہی قابلِ حصول تھا۔ پرامن طریقہ کار قدیم زمانے میں قابلِ عمل ہی نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں امن ہر انسان کا ایک حق (right) بن چکا ہے۔ اگر آدمی اپنی طرف سے کسی کو تشدد کا جواز (justification) فراہم نہ کرے تو یقینی طور پر وہ تشدد سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ آدمی صرف پرامن طریقہ کار کے ذریعہ ہی اپنے مقصد کو پوری طرح حاصل کر سکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ آدمی ” ’’آبیل مجھے مار“ کی غلطی نہ کرے ۔ اگر انسان ایسا کر سکے تو بلاشبہ وہ امن کو اپنے لیے یقینی بنا سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ آدمی اگر اپنے آپ کو اشتعال انگیزی (provocation) سے بچائے تو یقینی طور پر وہ دوسروں کے ظلم سے محفوظ رہے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues