Al-Risala · November 2017 · page 8

اللہ کی توفیق

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۸

اللہ کی توفیق

اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو توفیق الہی کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان اس دنیا میں جب بھی کوئی کام کرتا ہے تو وہ اللہ کی توفیق سے کرتا ہے۔ یعنی اللہ جب کسی انسان کے اندر استعداد دیکھتا ہے تو وہ اس کو توفیق عطا کرتا ہے۔ پھر وہ اللہ کی توفیق سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یہ لوگ اگر اقلیت میں ہوں تب بھی وہ اپنی خصوصی منصوبہ بندی سے کامیاب ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ان کے حالات ان کے ذہن کے بند دروازے کھولتے ہیں۔ وہ اپنے غیر معمولی حالات میں بھی ایسی بات دریافت کر لیتے ہیں جو لوگ عام حالات میں دریافت نہیں کر پاتے۔ انسان کو اس دنیا میں کامل آزادی ملی ہے۔ وہ جس طرح چاہے عمل کرے، جس طرح چاہے نہ کرے لیکن جس دنیا میں انسان کو عمل کرنا ہے، وہ دنیا اللہ کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ انسان کے باہر کی پوری دنیا کامل طور پر اللہ کی تخلیق ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان جب کچھ کرنا چاہے تو خارجی دنیا اس کے ساتھ مساعدت (support) کرے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اگرچہ اپنے عمل کے لیے آزاد ہے، لیکن وہ کوئی عمل اس وقت کر پاتا ہے، جب کہ اللہ کا نظام اس کے ساتھ مساعدت کرے۔ اسی لیے انسان کو ہمیشہ اللہ سے مدد کی دعا کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس دنیا میں وہ کوئی کام اسی وقت کر سکتا ہے، جب کہ اس کو اللہ کی مدد ملتی رہے۔

یہی وہ حقیقت ہے جس کو تمثیل کی زبان میں حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: إن قلوب بني آدم كلها بين إصبعين من أصابع الرحمن، كقلب واحد، يصرفه حيث يشاء۔ ثم قال: اللهم مصرف القلوب صرف قلوبنا على طاعتك (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2654)۔ یعنی تمام اولادِ آدم کا دل خدائے رحمان کی انگلیوں میں سے دو انگلی کے درمیان ہے، ایک دل کی طرح، وہ جیسے چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ پھر آپ نے دعا کی: اے دلوں میں تصرف کرنے والے، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اللہ سے دعا کرتا رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues

Printed page