Al-Risala · November 2017 · page 10

داعی کی اسپرٹ

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۰

داعی کی اسپرٹ

سورہ الانعام ایک مکی سورہ ہے۔ مکی دور میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت مکہ کے لوگ مشرکانہ مذہب پر تھے، اور پیغمبر اسلام کا مذہب توحید پر مبنی تھا۔ اس بنا پر وہ لوگ آپ کے دشمن بن گئے۔ ان حالات میں قرآن کی یہ آیت اتری: قُلْ أَغَيْرَ اللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ (6:14)۔ یعنی کہو، کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو مددگار بناؤں جو کہ وجود میں لانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔ کہو مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں۔

قرآن کی یہ آیت مین آف مشن (man of mission) کی اسپرٹ کو بتا رہی ہے۔ مین آف مشن کی اسپرٹ ہوتی ہے، آئی ول ڈواٹ (I will do it)۔ دوسرے لفظوں میں اس آیت کا مطلب تھا— کوئی توحید پر نہ چلے تو میں اس پر چلوں گا، کوئی توحید کو نہ اپنائے تو میں اس کو اپناؤں گا، کوئی توحید پرست نہ بنے تو میں اکیلا توحید پرست بنوں گا، کوئی اس مشن کے لیے نہ اٹھے تو میں اس کے لیے اٹھوں گا۔

داعی اس انسان کا نام ہے جو نتیجہ کو نہ دیکھے، بلکہ صرف اپنی ذمہ داریوں کو دیکھے۔ جو اس اسپرٹ کے ساتھ کام کرے کہ دنیا میں میرا کوئی حق نہیں، یہاں میری صرف ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں۔ داعی اس انسان کا نام ہے جس کو اپنے عمل کا نتیجہ ملے تب بھی وہ سرگرم رہے، اور اگر اس کو اپنے عمل کا نتیجہ نہ ملے تب بھی اس کی سرگرمیاں اسی اسپرٹ کے ساتھ جاری رہیں۔ داعی کی کامیابی یہ ہے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے۔ داعی کی کامیابی یہ ہے کہ اس کے دل سے انسان کی خیر خواہی کبھی ختم نہ ہو۔ داعی کا سفر دنیا سے شروع ہوتا ہے، اور وہ صرف وہاں ختم ہوتا ہے، جہاں سے آخرت کی ابدی دنیا شروع ہو جاتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues

Printed page