اکڑ کی چال
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۵
اکڑ کی چال
قرآن میں ایک نصیحت ان الفاظ میں آئی ہے : وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا (17:37) یعنی زمین میں اکڑ کر نہ چلو۔ تم زمین کو پھاڑ نہیں سکتے اور نہ تم پہاڑوں کی لمبائی کو پہنچ سکتے ہو۔ اس آیت میں مشی (چلنا) صرف چلنے کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق پورے طریقہ زندگی سے ہے۔ یہاں چال سے مراد انسان کا پورا اخلاقی رویہ ہے۔ انسان کے اندر ایک صفت ہے۔ یہ صفت انسان کا سب سے بڑا پلس پوائنٹ ہے اور یہی انسان کا سب سے بڑا مائنس پوائنٹ ہے۔ یہ صفت وہی ہے جس کو انا (ego) کہا جاتا ہے۔ ایک لفظ میں، اس صفت کا پلس پوائنٹ یہ ہے کہ آدمی کے اندر تواضع (modesty) پائی جائے۔ اس صفت کا مائنس پوائنٹ یہ ہے کہ آدمی کے اندر فخر (pride) کا جذبہ پیدا ہو جائے۔ ابلیس نے انسان سے اپنا تقابل کرتے ہوئے کہا تھا: أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَّخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ (7:12) یعنی میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھ کو آگ سے بنایا ہے اور آدم کو مٹی سے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابلیس غلط تقابل (wrong comparison) کا شکار ہوا۔ اپنے خیال کے مطابق، اس کو اپنا پلس پوائنٹ نظر آیا، اور آدم کا مائنس پوائنٹ دکھائی دیا۔ یہی انسان کی عام غلطی ہے۔ انسان اپنے خیال کے مطابق، ہمیشہ غلط تقابل کا شکار ہوتا ہے۔ وہ اپنے پلس پوائنٹ کو دیکھتا ہے، اور دوسرے کے مائنس پوائنٹ کو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کو کم، اور اپنے کو زیادہ سمجھ لیتا ہے۔ اس تقابل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غیر واقعی طور پر اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا سمجھ لیتا ہے۔ اور پھر اس کے اندر فخر اور غرور کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ آدمی کے اندر وہی صفت غائب ہو جاتی ہے جو انسان کی اصل صفت ہے، اور وہ ہے تواضع (modesty)۔ کوئی چیز اپنے انجام کے اعتبار سے پہچانی جاتی ہے۔ جو طرز فکر آدمی کے اندر تواضع پیدا کرے، وہ صحیح طرز فکر ہے، اور جو طرز فکر آدمی کے اندر برتری کا جذبہ پیدا کرے، وہ بلا شبہ غلط طرز فکر ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues