عقل کا فقدان
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۱۸
عقل کا فقدان
امت کے بعد کے دور کے بارے میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: ذکر رسول الله هرجا بين يدي الساعة حتى يقتل الرجل جاره وأخاه وابن عمه، قالوا: ومعنا عقولنا يومئذ؟ قال: تنزع عقول أكثر أهل ذلك الزمان، ويخلف لها هيماء من الناس، يحسب أحدهم أنه على شيء وليس على شيء، (الفتن لنعيم ابن حماد، قاهرة، 1412ھ، حدیث نمبر 115)۔ یعنی رسول اللہ نے قیامت سے پہلے پیش آنے والے ہرج (فتنہ) کا ذکر کیا، (اور کہا کہ) یہاں تک کہ آدمی قتل کرے گا اپنے پڑوسی کو، اور اپنے بھائی، اور اپنے چچا کے بیٹے کو۔ لوگوں نے پوچھا: کیا ان دنوں ہمارے پاس عقل ہوگی۔ آپ نے کہا: اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھن جائیں گی، اور دیوانوں کے مانند لوگ بچیں گے۔ ان میں سے کوئی شخص یہ سمجھے گا کہ وہ کسی چیز پر ہے، حالاں کہ وہ کسی چیز پر نہ ہوگا۔ اس حدیث پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ امت کے دورِ زوال میں یہ ظاہر ہ اس بنا پر پیدا ہوگا کہ امت مسلمہ اپنے پہلے دور میں سیاسی عروج پر پہنچ جائے گی۔ اس کے بعد قانونِ فطرت کے تحت اس کا اقتدار اس سے چھن جائے گا، دوسری قومیں اس کی جگہ غلبہ کا مقام حاصل کر لیں گی۔ اس دور میں امت کے اندر وہ ظاہر ہ پیدا ہوگا جس کو عظمت رفتہ کا جنون (paranoia) کہا جاتا ہے۔ یہ احساس امت کے افراد کے اندر سخت قسم کی انتقامی دیوانگی پیدا کر دے گا۔ امت کے افراد دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگیں گے۔ وہ ہر ایک کو اپنا دشمن سمجھ لیں گے۔ وہ انتقامی نفسیات کے تحت چاہیں گے کہ اپنے مفروضہ دشمنوں کو مٹا ڈالیں۔ یہاں تک کہ وہ خود اپنے لوگوں کے دشمن ہو جائیں گے۔ کیوں کہ وہ ان کو یہ سمجھنے لگیں گے کہ وہ ان کے دشمنوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ امت کے لیے عقل کے فقدان کا وقت ہوگا۔ وہ ایسے کام کریں گے جن کا تعلق عقل و دانش سے نہ ہوگا۔ لیکن وہ بطورِ خود یہ سمجھیں گے کہ وہ عقل پر بھی ہیں، اور اسلام پر بھی۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues