سماجی آداب
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۵
سماجی آداب
ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک صحابی، وابصہ الاسدی پیغمبر اسلام کے پاس آئے۔ وہ نیکی اور بدی کے تمام سوالات آپ سے پوچھونا چاہتے تھے (لا أدع شیئا من البر والإثم إلا سألته عنہ)۔ رسول اللہ نے ان کے سوالات کا جواب نہیں دیا، بلکہ یہ فرمایا : یا وابصة استفت قلبك، واستفت نفسك ” ثلاث مرات“، البر ما اطمئنانت إليه النفس، والإثم ما حاك في النفس، وتردد في الصدر، وإن أفتاك الناس وأفتوك (مسند احمد، حدیث نمبر 18006)۔ یعنی اے وابصہ، اپنے دل سے فتویٰ پوچھو، اور اپنے جی سے فتویٰ پوچھ (یہ بات آپ نے تین بار کہی، اس کے بعد فرمایا) نیکی وہ ہے جس پر تمھارا دل مطمئن ہو، اور بدی وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹکے۔ اور تمھارے دل میں تردد پیدا ہو۔ چاہے لوگ کچھ بھی فتویٰ دیتے ہوں۔
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر آدمی ہر معاملے میں اپنا مفتی خود بن جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسئلے کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ کھلی ممنوعات کے سوا جو چیزیں ہیں، ان میں کامن سنس (common sense) پر عمل کرو۔
مثلاً انڈیا میں ملاقات کے وقت پاؤں چھونے کا رواج ہے۔ یہ عمل کوئی مذہبی عمل نہیں ہے، بلکہ وہ بطور احترام (as a mark of respect) ہوتا ہے۔ ملاقات کے وقت احترام کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً سر کو یا ہاتھ کو بوسہ (kiss) کرنا، یارکوع کی مانند جھک جانا، وغیرہ۔ جس طرح سے یہ علامتی طریقے جائز ہیں، اسی طرح علامتی طور پر پاؤں کا چھونا بھی جائز ہے۔ قرآن کے مطابق، حضرت یوسف کے بھائیوں نے حضرت یوسف کے سامنے بوقت ملاقات ایک فعل کیا تھا، جس کے لیے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا (12:100)۔ اس آیت میں معروف سجدہ مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس سے مراد بطور تعظیم جھک جانا ہے۔ اس کا تعلق آداب حیات سے ہے، نہ کہ شرعی عبادت سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues