Al-Risala · November 2017 · page 30

مدح، تنقید

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۰

کی ہے اور اسلام کے دور اول کی مثالوں سے اُس کو واضح کیا ہے۔ تاہم تنقید اور تنقیص میں بہت زیادہ فرق ہے۔ یہاں تک کہ یہ کہنا درست ہوگا کہ تنقید مکمل طور پر جائز ہے اور تنقیص مکمل طور پر ناجائز۔ تنقید بلاشبہ ایک مطلوب چیز ہے اور تنقیص بلاشبہ ایک غیر مطلوب چیز۔ تنقید دراصل علمی اختلاف کا دوسرا نام ہے۔ حقائق و واقعات کی روشنی میں خالص موضوعی انداز میں کسی معاملہ کا تجزیہ کرنا وہ چیز ہے جس کو تنقید کہا جاتا ہے۔ تنقید خواہ بظاہر کسی شخص کے افکار و آراء کے حوالہ سے ہو، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ معاملہ کی اصولی وضاحت ہوتی ہے۔ اُس میں غلط اور صحیح کے درمیان تقابل ہوتا ہے، نہ کہ ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان۔ اس کے برعکس، تنقیص ایک شخصی عیب جوئی ہے۔ تنقیص کرنے والے کے سامنے اصلاً کسی امر حق کی وضاحت نہیں ہوتی بلکہ ایک شخص کی تذلیل اور تحقیر ہوتی ہے جس کو اُس نے کسی وجہ سے اپنا مخالف سمجھ لیا ہے۔ تنقیص صرف ایک غیر اخلاقی فعل ہے، وہ کسی درجہ میں بھی کوئی علمی واقعہ نہیں۔ تنقید کا عمل اگر علمی اصول کی بنیاد پر ہوتا ہے تو تنقیص کا عمل کسی شخص کے خلاف ذاتی سب وشتم کی بنیاد پر۔

☆☆☆☆☆

تبیین حق سے مراد دعوت اعظم ہے۔ یعنی اعلیٰ ترین سطح پر دعوت حق کی ادائیگی۔ یہ وہی بات ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)_ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور ان کے انفس میں۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو قرآن میں آفاق وانفس کی آیات کے ذریعے حق کی اعلیٰ تبیین کہا گیا ہے، اور حدیث میں اس کو شہادتِ اعظم کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues

Printed page