Al-Risala · November 2017 · page 32

الأئمة المضلون

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲

الأئمة المضلون

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أن أخوف ما أخاف عليكم الأئمة المضلون (مسند احمد، حدیث نمبر 27485)۔ یعنی میں اپنی امت کے بارے میں سب سے زیادہ جس چیز سے ڈرتا ہوں وہ گمراہ کرنے والے لیڈر ہیں۔

اس حدیث میں بعد کو آنے والے جس زمانہ کا ذکر ہے اُس سے مراد غالباً صنعتی انقلاب کا زمانہ ہے۔ یہ واقعہ بعد کے زمانہ میں ظہور میں آنے والا تھا۔ جب کہ امت مسلمہ واحد حامل دین کی حیثیت سے دنیا میں باقی رہے گی۔ اس لیے آپ نے اس معاملہ کو اپنی امت کی طرف منسوب فرمایا۔ واضح ہو کہ دوسری روایتوں میں علیکم کے بجائے علی امتی (مسند احمد، حدیث نمبر 21297) کے الفاظ آئے ہیں۔ قدیم زمانہ بادشاہت کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں گمراہ کن لیڈر کے ظہور کے مواقع موجود نہ تھے۔ موجودہ زمانہ میں آزادی، کمیونی کیشن، میڈیا و لاؤڈ اسپیکر اور اسٹیج نے ایسے مواقع پیدا کئے جن میں گمراہ کرنے والے لیڈر ابھریں اور پوری امت کو صراط مستقیم سے بھٹکا دیں۔ یہ جدید قیادت مواقع ایسے وقت میں ظہور میں آئیں گے جب کہ امت طول آمد کے نتیجہ میں زوال کا شکار ہو چکی ہوگی۔ ایسی حالت میں کرنے کا اصل کام یہ ہوگا کہ جدید مواقع کو استعمال کر کے امت کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ مگر یہ ایک بے حد مشکل کام ہوگا۔ اس کے مقابلہ میں آسان کام یہ ہوگا کہ امت کی زوال یافتہ نفسیات کو استعمال کر کے اس کے اوپر اپنی قیادت کی بنیاد رکھ دی جائے۔ یعنی امت جہاں ہے وہیں سے اس کا سفر شروع کر دیا جائے۔

یہ گمراہ کرنے والے لیڈر یہی دوسرا کام کریں گے۔ وہ امت کو فضائل کی پر اسرار کہانیاں سنا کر خوش فہمی میں مبتلا کریں گے۔ وہ ماضی کے تاریخی کارنامے بتا کر انہیں فخر کی غذا دیں گے۔ وہ سیاسی تقریریں کر کے ان کے جوش کو ابھاریں گے۔ وہ ادب اور خطابت کے الفاظ میں انہیں گم

‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues

Printed page