Al-Risala · November 2017 · page 36

زوال کیا ہے

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

زوال کیا ہے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کو جو آسمانی تعلیم دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ انہوں نے بھلا دیا : وَنَسُوا حَظَّاً مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ... فَنَسُوا حَظّاً مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ... (5:13-14)۔ اس بھلانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہود و نصاریٰ نے کوئی کانفرنس کر کے اس میں باقاعدہ یہ طے کیا ہو کہ آج سے ہم فلاں چند باتیں یاد رکھیں گے اور بقیہ باتوں کو بھلا دیں گے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ اس قسم کا بھولنا ہمیشہ تاریخی اور نفسیاتی اسباب کے تحت ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر دھیرے دھیرے یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ کچھ چیزیں لوگوں کے زندہ حافظے میں باقی رہتی ہیں، اور دوسری چیزیں ان کے زندہ حافظہ سے نکل جاتی ہیں۔ کچھ چیزوں کی اہمیت انہیں یاد رہتی ہے، اور کچھ چیزوں کی اہمیت سے وہ بے خبر ہو جاتے ہیں۔

حدیث میں ہے کہ یہود و نصاریٰ نے بگاڑ پیدا ہونے کے بعد جو کچھ کیا وہی سب مسلمان بھی بعد کے زمانے میں کریں گے (لتتبعن سنن من كان قبلكم ) صحیح البخاری ، حدیث نمبر 7320۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدی پر بھی ایسا وقت آ سکتا ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ لوگ دین کے ایک حصے سے واقف ہوں اور انہیں دین کے دوسرے حصے کی خبر نہ رہے۔ دین کے بعض حصوں کی ان کے یہاں دھوم ہو اور دوسرے زیادہ بڑے حصہ کو انہوں نے اس طرح چھوڑ رکھا ہو، جیسے کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ یہ بھی اس دین کا حصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے ذریعہ ان کے پاس بھیجا تھا۔ کسی قوم پر جب بھی یہ حالت آتی ہے تو وہ مزاج میں بگاڑ کی بنا پر آتی ہے۔ سب سے پہلے قوموں کا مزاج بگڑتا ہے، پھر اس کے نتیجہ کے طور پر ان کا اخلاق و کردار بھی بدلتا چلا جاتا ہے۔ مثلاً مختلف اسباب کے تحت ظواہر کو روح کا بدل سمجھ لینا۔ اب ایسا ہوتا ہے کہ دین کی اصل روح کو جاننے اور اپنانے کی فکر نہیں ہوتی بلکہ اس کے خارجی مظاہر ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ زوال کی علامت ہے اور یہ زوال ہر امت کے ساتھ بہر حال پیش آتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues

Printed page