Al-Risala · November 2017 · page 38

اسلامی انقلاب میں عمومی تائید

الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۸

اسلامی انقلاب میں عمومی تائید

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ ایک غزوہ (جنگ) میں ایک شخص نے حصہ لیا اور زبردست جنگی کارنامہ انجام دے کر جنگ کو جیتنے میں مدد دی۔ لیکن جنگ کے آخر میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ یہ شخص اہل جنت میں سے نہیں ہے بلکہ اہل نار میں سے ہے۔ جن لوگوں نے اس جنگ میں اس کے بہادرانہ کارنامے دیکھے تھے، انہیں آپ کے اس ارشاد پر تعجب ہوا۔ مگر جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس آدمی نے بہادرانہ قتال تو ضرور کیا تھا مگر آخر میں اس نے خود اپنی تلوار سے اپنے کو ہلاک کر لیا۔ گویا کہ اس کا معاملہ خودکشی کا معاملہ تھا، نہ شہادت کا معاملہ۔

اس واقعہ کے بعد پیغمبر اسلام نے حضرت بلال سے کہا کہ اے بلال اٹھو اور یہ اعلان کر دو کہ جنت میں صرف وہی شخص جائے گا جو مومن ہو اور اللہ بے شک اس دین کی مدد فاجر آدمی سے بھی کرے گا (لا يدخل الجنة إلا مؤمن، إن الله يؤيد الدين بالرجل الفاجر) صحیح البخاری، حدیث نمبر 4203۔ اس حدیث سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام نے انسانی زندگی میں جو ہمہ گیر انقلاب برپا کرنا چاہا تھا، اس کا آغاز اگر چہ مخلص اہل ایمان کریں گے مگر اس کی آخری تکمیل نسل در نسل کے تاریخی عمل کے ذریعہ ہوگی۔ اس تاریخی عمل میں نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی مؤثر طور پر اپنا کردار ادا کریں گے۔ پیغمبر اسلام کا یہ ارشاد آپ کے بعد کی تاریخ میں مسلسل واقعہ بنتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ آئندہ آفاق و انفس میں ایسی حقیقتیں ظاہر ہوں گی جو اسلام کی صداقت کو خالص علمی سطح پر ثابت شدہ بنا دیں (حم السجدہ: 53)۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی تحقیق کے بعد جو دریافتیں ہوئی ہیں، انہوں نے اس پیشین گوئی کو حرف بحرف ایک ثابت شدہ حقیقت بنا دیا ہے۔ یہ جدید دریافتیں غیر مسلم قوموں کے ذریعہ ظہور میں آئی ہیں۔ مسلم افراد کا حصہ ان میں تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues

Printed page