Al-Risala · February 2017 · page 5

ایک سنتِ رسول

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۵

ایک سنتِ رسول

سن چھ ہجری میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم فریقِ مخالف سے امن کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ طویل گفت و شنید کے بعد جب معاہدے کی دفعات طے ہوگئیں، اور اس کو کاغذ پر لکھا جانے لگا تو پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے معاہدے کو لکھواتے ہوئے کہا : اَكتب يا علي، هذا ما صالح عليه محمد رسول الله ۔

فریقِ ثانی کے لیڈر نے فوراً اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو رسول اللہ نہیں مانتے۔ آپ محمد رسول اللہ کے بجائے محمد بن عبد اللہ لکھیے، جو کہ ہمارے اور آپ کے درمیان مشترک ہے۔ آپ نے بلا بحث کہا: امح یا علي، اللهم إنك تعلم أني رسولك، امح يا علي واكتب، هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله (مسند احمد، حدیث نمبر 3187)۔ یعنی اے علی، اس کو مٹا دو۔ اے اللہ، تو جانتا ہے کہ میں تیرا رسول ہوں۔ اے علی، مٹا دو اور لکھو، یہ وہ (دفعات) ہیں جن پر محمد بن عبداللہ نے صلح کیا۔ اس کے بعد صلح کا معاہدہ طے پا گیا۔ اور آپ اپنے اصحاب کے ہمراہ مدینہ واپس آگئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاملہ بلاشبہ اللہ کی رہنمائی کے مطابق تھا۔ اللہ کی رہنمائی کے بغیر آپ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ سورہ الفتح میں اس کی بابت یہ الفاظ آئے ہیں: وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (48:2)۔ آپ کا یہ عمل بلاشبہ صراطِ مستقیم کا ایک جزء تھا۔ اس لحاظ سے یہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک ابدی اصول ہے۔ جس طرح دورِ اول میں اس اصول کو اختیار کرنے کے نتیجے میں فتحِ مبین (الفتح: 1) حاصل ہوئی۔ اسی طرح بعد کے زمانے میں بھی فتحِ مبین کو حاصل کرنے کا طریقہ یہی ہے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا طریقہ مسلمانوں کو فتحِ مبین تک پہنچانے والا نہیں۔ منصوبہ بندی کا یہ طریقہ ہمیشہ دنیا میں باقی رہتا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانے میں اہلِ ایمان یہ چاہتے ہیں کہ ان کو یہ آزادی ہو کہ وہ قرآن کا پیغام ساری دنیا میں کھلے طور پر پہنچائیں۔ لیکن بار بار

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page