بیماری سے تطہیر
الرسالہ، نومبر ۲۰۱۷، صفحہ ۴۱
بیماری سے تطہیر
حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ میں ایک شخص بیمار ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس کی عیادت کے لیے اُس کے گھر گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے کہا : لا بأس طهور إن شاء الله (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 5662)۔ یعنی کوئی حرج نہیں، ان شاء اللہ یہ پاکی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے کہا: كفارة و طهور (مسند احمد، حدیث نمبر 13616)۔ یعنی یہ کفارہ اور پاکی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو پر اسرار طور پر اس کے گناہ دھل جاتے ہیں، وہ خود بخود ایک پاکیزہ انسان بن جاتا ہے۔ بلکہ یہ ایک معلوم شعوری واقعہ ہے جو ایک سچے مومن کے ساتھ پیش آتا ہے۔ کوئی آدمی اگر بیمار نہ ہو، اُس کا جسم مکمل طور پر ایک صحت مند جسم ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُس کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر فخر و ناز کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں۔ اُس کے سینہ میں دردمندانہ احساسات کی پرورش نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ وہ ایک بے حس انسان بن کر رہ جاتا ہے۔ لیکن جب ایک مومن بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اپنے عجز کو دریافت کرتا ہے۔ اُس کے اندر دردمندی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے بندہ ہونے کی حقیقت کا تجربہ کرتا ہے۔ اس طرح بیماری اُس کو دوسری چیزوں سے دور کر کے اللہ سے قریب کر دیتی ہے۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے لگتا ہے۔ اُس کے دل سے دعائیں اور التجائیں نکلنے لگتی ہیں۔ بیماری اُس کے لیے اللہ سے قربت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ بیماری بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن اگر صحیح اسلامی ذہن ہو تو جسمانی بیماری آدمی کے لیے روحانی صحت کا ذریعہ بن جائے گی ۔ اس دنیا میں اصل اہمیت ذہنی بیداری کی ہے۔ بیدار ذہن ہی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ واقعات سے سبق لے۔ اور ذہن کو بیدار کرنے والی سب سے بڑی چیز اس دنیا میں صرف ایک ہے، اور وہ مشکل حالات ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2017 All issues