رسول اللہ کا کارنامہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۲۱
رسول اللہ کا کارنامہ
جدید تعلیم یافتہ طبقہ اکثر یہ سوال کرتا ہے کہ انسانی تاریخ کی لیے پیغمبر اسلام کی دین (contribution) کیا ہے۔ میں کہوں گا کہ آپ کی دین خاص طور پر دو چیزیں ہیں_ موحدانہ تصور خدا (monotheistic concept of God)، عملی آئیڈیلزم (practical idealism)۔ یہ دونوں چیزیں انسانی ترقی کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر تاریخ میں یہ دونوں چیزیں مفقود رہیں۔ انسان ہمیشہ سے خدا کو مانتا تھا، لیکن وہ خدا کے ساتھ مشرکانہ تصورات کو ملائے ہوئے تھا، وہ خالص توحید پر قائم نہ تھا۔ پیغمبر اسلام نے انسان کو بے آمیز توحید پر قائم کیا۔ یہ بلاشبہ انسان کے لیے پیغمبر اسلام کا سب بڑا نظریاتی تحفہ تھا۔ کیوں کہ یہ صرف خالص توحید ہے جس کے ذریعہ خدا کا تصور صحیح بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔
دوسری چیز عملی آئیڈیلزم (practical idealism) ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ آئیڈیلزم کو چاہنے والا بنارہا۔ لیکن آئیڈیلزم عملی طور پر کبھی انسان کو حاصل نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان نے اس راز کو نہیں جانا کہ اگر چہ وہ پیدائشی طور پر معیار پسند ہے۔ لیکن مختلف اسباب سے اس دنیا میں عملاً آئیڈیلزم کا حصول ممکن نہیں ہوتا۔ انسان خود اپنے آپ کو معیار پسند (idealist) بنا سکتا ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں اس قسم کے معیار کا حصول ممکن نہیں۔ اس لیے اجتماعی زندگی میں کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی عملی آئیڈیلزم پر راضی ہوجائے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اصول کو نہ صرف بتایا بلکہ اپنی عملی زندگی میں اس کا کامل نمونہ بھی قائم کر دیا۔ پیغمبر اسلام کی پوری زندگی اس اصول کا عملی نمونہ ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اگر چہ آپ کو کامل یقین تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں_ لیکن معاہدۂ حدیبیہ کے وقت جب فریق مخالف نے اصرار کیا کہ معاہدہ کے متن سے محمد رسول اللہ کا لفظ نکال دیا جائے، اور اس کی جگہ محمد بن عبد اللہ لکھا جائے تو آپ فوراً اس پر راضی ہوگئے۔ آپ کی یہ رضامندی عملی آئیڈیلزم کی بنیاد پر تھی، نہ کہ خالص آئیڈیلزم کی بنیاد پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues