تردیدی لٹریچر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۷، صفحہ ۳۰
تردیدی لٹریچر
قرآن کی ایک تعلیم یہ ہے کہ دعوت حق کا کام مثبت انداز میں کیا جائے، منفی انداز میں نہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کی مندرجہ ذیل آیت کا مطالعہ کیجیے: وَلَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ (6:108)۔ یعنی اور اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، ان کو گالی نہ دو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالی دینے لگیں گے۔ قرآن کی یہ آیت جب اتری تو اولاً اس کا خطاب اصحابِ رسول سے تھا۔ حدیث وسیرت کے ذخیرے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صحابہ اس زمانے کے غیر مسلموں سے سبّ وشتم کی زبان بولتے تھے۔ سبّ وشتم کا لفظ یہاں شناعت کے اعتبار سے آیا ہے، نہ کہ واقعہ کے اعتبار سے۔ اصل میں جو واقعہ ہوا تھا، وہ یہ کہ بعض صحابی نے غیر احسن مجادلہ کی زبان میں بعض یہود سے گفتگو کی۔ مثلاً ایک یہودی نے کہا کہ موسیٰ تمام عالم سے افضل ہیں۔ اس کو سن کر ایک صحابی نے کہا کہ محمد تمام اہل عالم سے افضل ہیں۔ یہ بات بڑھی، یہاں تک کہ صحابی نے یہودی کو مار دیا۔
مذکورہ آیت میں اہل ایمان کو اسی قسم کے غیر احسن مجادلہ سے روکا گیا ہے۔ کیوں کہ جب بھی غیر احسن انداز میں مجادلہ کیا جائے گا تو اس کا ردِعمل (reaction) ہوگا۔ اس اصول کی روشنی میں تردیدی اندازِ دعوت، یقینی طور پر غیر اسلامی اندازِ دعوت ہے۔ کیوں کہ اگر آپ ردِ عیسائیت اور ردِ یہودیت کے اسلوب میں کتابیں لکھیں گے، تو دوسرا فریق بھی رَدِّ اسلام کے انداز میں کتابیں لکھے گا۔ تردیدی اسلوب کار دُعمل ہمیشہ تردیدی اسلوب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ تردیدی اسلوب کی کوئی حد نہیں۔ تردیدی اسلوب جس طرح دوسرے مذاہب کے خلاف ممکن ہے، ٹھیک اسی طرح وہ اسلام کے خلاف بھی ممکن ہے۔ یہ اسلوب کی بات ہے، نہ کہ حق وناحق کی بات۔ موجودہ زمانہ میں مناظرہ (debate) کا طریقہ نتیجہ کے اعتبار سے سبّ وشتم کا طریقہ ہے۔ دعوت کا مؤثر اسلوب صرف مثبت اسلوب ہے، تردیدی اسلوب ہرگز نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2017 All issues