Al-Risala · February 2017 · page 17

Serendipity is a happy and unexpected event that

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۱۷

جنت ہے۔ اور اگر وہ خالق کے تخلیقی نقشہ کی خلاف ورزی کرے تو اس کے لیے ابدی جہنم ہے۔ رب العالمین کے اس تخلیقی نقشہ کو قرآن میں اشارات کی زبان میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں بتایا گیا ہے کہ مادی کائنات کی تخلیق کے بعد انسان کو پیدا کیا گیا، اور اس کو زمین پر خلیفہ (البقرۃ: 30) کی حیثیت سے آباد کیا گیا۔ خلیفہ سے مراد وہی چیز ہے جس کو انسانی زبان میں انچارج کہا جاتا ہے۔ فرشتے خدا کے حکم کے مطابق، کائنات کا نظام اس طرح چلا رہے ہیں کہ ہمیشہ انسان کے لیے وہ ایک موافق دنیا بنی رہے۔ اس کے بعد انسان نے جب نیچر کے خفیہ رازوں کو دریافت کرنا شروع کیا اور ٹکنالوجی پر مبنی تہذیب کی تشکیل کی تو اس معاملے میں بھی انسان کو مسلسل طور پر فرشتوں کی مدد حاصل رہی۔ اس کا اشارہ پیغمبر نوح کی کشتی سازی کے ذکر میں اس طرح کیا گیا ہے : وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا (11:37)۔ اس سے مستنبط ہوتا ہے کہ یہی واقعہ جدید تہذیب (modern civilization) کی تشکیل کے معاملہ میں پیش آ رہا ہے۔ گویا خالق نے انسان سے یہ کہہ دیا کہ اصنع الحضارة باعيننا و وحينا۔ یعنی تہذیب بناؤ ہماری آنکھوں کے سامنے، اور ہماری وحی کے مطابق۔ کہا جاتا ہے کہ اکثر سائنسی دریافتیں کسی نہ کسی اتفاق (chance) کے ذریعہ وجود میں آئیں ۔ تفصیل کے لیے وکی پیڈیا پر یہ مضمون دیکھا جاسکتا ہے : "Role of Chance in Scientific Discoveries". یہ اتفاقات محض اتفاقات نہیں ہیں، بلکہ وہ فرشتوں کے تعاون کی مثالیں ہیں، جو غیر مرئی مدد کے طور پر سائنسدانوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ اس قسم کے اتفاق کے لیے ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے، جس کو سرنڈیپیٹی (Serendipity) کہا جاتا ہے :

Serendipity is a happy and unexpected event that

apparently occurs due to chance and often appears when we are searching for something else. Serendipity...happens in our daily lives and has been responsible for many innovations and important advances in science and technology. تاریخ انسانی کے دوسرے دور میں ایک نئی دنیا بنائی جائے گی۔ یہ دنیا، اسی زمین و آسمان کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page