Al-Risala · February 2017 · page 19

Serendipity is a happy and unexpected event that

الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۱۹

والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا، تا کہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجت باقی نہ رہے۔

انذار و تبشیر کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیغمبروں کا مشن خالص اخروی مشن تھا۔ ان کے مشن کا فوکس ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ انسان کے لیے وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو ابدی جنت تک پہنچانے والا ہے، اور وہ کون سا رویہ ہے جو اس کو اس خطرے (risk) میں ڈالتا ہے کہ اگلے دور حیات میں اس کو ابدی طور پر جہنم والوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔

پیغمبروں کے ذریعے انسان کو جور ہنمائی ملی، اصولی طور پر اس کا خلاصہ دو چیزیں تھیں: (1) نظریہ توحید (Ideology of Tawheed)

(2) طریقہ کار (Method)

پیغمبرانہ طریقہ کار ایک لفظ میں غیر نزاعی طریقہ کار (non-confrontational method) ہے۔ نظریہ اور طریقہ کار کے اعتبار سے یہی دو چیزیں پیغمبروں کے ذریعے انسان کو دی گئیں۔

پہلے انسان (آدم) سے لے کر محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر انسان کی طرف آئے۔ انھوں نے انسان کو بتایا کہ یہ زمین تمھارے لیے ابدی قیام گاہ (eternal habitat) نہیں ہے، بلکہ یہ تمھارے لیے ایک عارضی قیام گاہ (temporary abode) ہے۔ یہاں تمھیں یہ موقع دیا گیا ہے کہ تم اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو جنت کا مستحق (deserving candidate) بناؤ، اور تاریخ انسانی کے خاتمہ پر جنت کی شکل میں اپنے مطلوب ابدی ہیبیٹاٹ (habitat) میں جگہ پاؤ۔ ساتویں صدی عیسوی میں محمد عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان پھر بھی پیدا ہو کر زمین پر آباد ہو رہے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues

Printed page