تخلیقی ایمان
الرسالہ، فروری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۷
ایمان موجود ہے۔
اس قسم کے اضافے کی ایک مثال وہ ہے جو غزوہ خندق (5 ہجری) سے معلوم ہوتی ہے۔ اس وقت مدینہ کے حالات بہت سخت تھے۔ قرآن میں اس کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَبَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ (33:7)۔ اس وقت کچھ صحابہ نے پریشانی کا اظہار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صبر کی تلقین کی اور دعائیہ انداز میں فرمایا: اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة، فاغفر للأنصار والمهاجرة (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1805)۔ یعنی اے اللہ، زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
اس حدیث کو پڑھنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو ایک کتابی روایت کے طور پر پڑھ لیں۔ اور اس سے ایک تاریخی واقعے کے بارے میں واقفیت حاصل کریں۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس واقعے کو پڑھتے ہوئے آپ کا زندہ ایمان آپ کے اندر ایک فکری بھونچال پیدا کر دے۔ آپ کا حال یہ ہو کہ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے آپ کے دل میں ہیجان پیدا ہو جائے ۔ اور پھر شدت تاثر کے تحت آپ کی زبان پر یہ الفاظ آجائیں: اللهم لا فوز الا فوز الآخرة... یعنی اے اللہ، کامیابی تو صرف آخرت کی کامیابی ہے۔ اگر آپ ایسا کریں تو یہ آپ کے لیے اسی قسم کا ایک عمل ہوگا جس کو لکھنے کے لیے فرشتے دوڑ پڑیں۔
دعا اور ذکر کے جو ماثور کلمات ہیں، ان کو دہرانے کا بلا شبہ ثواب ہے۔ لیکن اگر آدمی کے اندر زندہ ایمان ہو، اس کا ذہن بیدار ہو، اس کے صبح و شام یادِ خداوندی میں گزرتے ہوں تو اس کا حال یہ ہوگا کہ جب بھی اس قسم کا کوئی تجربہ پیش آئے تو وہ اس کے جذبات میں تموج پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا۔ اس کا تیار ذہن اس کے بارے میں مزید سوچنے لگے گا۔ اس کا تیار ذہن اس کے اندر مزید فکری اضافہ کرے گا۔ یہ اضافہ آدمی کی ایمانی زندگی کا ثبوت ہے۔ اور یہ ایمانی زندگی اتنی قیمتی ہے کہ جب وہ ظاہر ہوتی ہے تو فرشتے اس کو ریکارڈ کرنے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ یہی وہ ایمان ہے جس کو یہاں تخلیقی ایمان کا نام دیا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2017 All issues